|

وقتِ اشاعت :   November 13 – 2019

حکومت نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا کہ نوازشریف کو4ہفتوں کےلیےایک باربیرون ملک جانےکی مشروط اجازت دی

گزشتہ روز وزیر قانون فروغ نسیم کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس ہوا تھا جوبے نتیجہ رہا، طویل اجلاس کے بعد بھی نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا فیصلہ نہیں ہوسکا تھا تاہم اس بارے میں کابینہ کی ذیلی کمیٹی کا آج اجلاس ہونا تھا جو کئی گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا۔

بدھ کو کابینہ کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس وزیر قانون فروغ نسیم کی زیر صدارت دوبارہ ہوا جس میں معاون خصوصی شہزاد اکبر اور سیکریٹری داخلہ بھی شریک تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کا نام ای سی ایل سے باہر نکالنے کے لیے اجلاس میں سفارشات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے جس کے بعد وزیر قانون فروغ نسیم نے وزیراعظم عمران خان کو اس بارے میں آگاہ کردیا ہے۔

اس دوران وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے معاملے پر مشاورت کی ہے جس میں معاون خصوصی شہزاد اکبر اور سیکرٹری داخلہ نے شرکت کی تھی، حتمی سفارشات تیار کرکے وزیراعظم عمران خان اور کابینہ کو بھیجیں گے، جو بھی فیصلہ ہوگا اس سے باقاعدہ آگاہ کریں گے۔

فروغ نسیم نے کہا تھا کہ نواز شریف کی رضامندی سے ہمارا فیصلہ مشروط نہیں ہو گا، جو فیصلہ ہوگا ہم دے دیں گے، نواز شریف کی میڈیکل رپورٹ کے مطابق ان کی صحت خراب ہے۔

دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے نمائندے عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ اجلاس میں فیصلہ لینے آیا تھا تاہم بتایا گیا کہ حکومت پریس کانفرنس میں فیصلے کا اعلان کرے گی، حکومتی فیصلے کا بعد مسلم لیگ (ن) اپنا آئندہ کے لائحہ عمل دے گی۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز وفاقی کابینہ نے نواز شریف کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی مشروط اجازت دینے کی منظوری دی تھی تاہم سابق وزیراعظم نے حکومتی شرائط تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے بیرون ملک جانے سے انکار کردیا تھا۔