تربت: نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل جان محمدبلیدی نے کہاہے کہ بلوچستان کامسئلہ چند پروجیکٹ یا ساؤتھ ونارتھ جیسے پیکیج نہیں بلکہ بلوچ قوم کا مسئلہ سیاسی اختیارکا ہے تاکہ بلوچ قوم اپنی سرزمین پر اپنے فیصلے خودکرسکے،نیشنل پارٹی سیاسی حق واختیارکی جدوجہد کی سرخیل جماعت ہے، تمام ادارے اپنے دائرہ اختیارمیں رہ کر کام کریں، فورسز کی جانب سے عوام کو چیک پوسٹوں پر ہراساں کرنا قابل مذمت عمل ہے۔
نیشنل پارٹی ان مخلص ونظریاتی ساتھیوں کوکسی صورت فراموش نہیں کرسکتی جو آج ہم میں موجود نہیں، ان مرحومین کی اولادوں کوکسی صورت مایوس نہیں کریں گے، ان خیالات کااظہارانہوں نے اتوارکی شام نیشنل پارٹی کیچ کے زیراہتمام نیشنل پارٹی کے نظریاتی وکمیٹیڈ کارکنان مرحوم کامریڈ قائد اکبر، مرحوم ماسٹرعبدالستار اورمرحوم محمد ابراہیم مندی کی یادمیں منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، تعزیتی ریفرنس کی صدارت نیشنل پارٹی ضلع کیچ کے صدرمحمدجان دشتی نے کی،تعزیتی ریفرنس میں کارکنان اور مرحومین کے عزیز واقارب نے کثیرتعدادمیں شرکت کی، جان محمد بلیدی نے کہاکہ نیشنل پارٹی جمہوری اندازمیں بڑی شائستگی اوریکسوئی کے ساتھ سیاسی حق واختیارکے حصول کیلئے مصروف عمل ہے۔
نیشنل پارٹی نے بلوچ کے حق اختیارکے مسئلہ پر کبھی بھی سودابازی نہیں کی، آج جو بھرتی شدہ لوگ حکومت میں ہے وہ سب بے دست وپا ہیں،نیشنل پارٹی کو اگر ایسی بے اختیار حکومت 10بار بھی ملے تو اس کی طرف دیکھے گا بھی نہیں، موجودہ حکومت اسٹیبلشمنٹ کی بھرتی شدہ لوگوں کی ہے جنہیں کوئی اختیارنہیں یہی وجہ ہے کہ عوام کے ساتھ کچھ بھی ہو، یہ خاموشی میں عافیت سمجھتے ہیں یا اسٹیبلشمنٹ جو ان کے منہ میں دے وہی بول دیتے ہیں جس طرح بانک کریمہ کے مسئلہ پر دنیا نے بہت کچھ دیکھا مگر انہیں کچھ نظرنہیں آیا۔
انہوں نے کہاکہ پی ڈی ایم کہتی ہے کہ ہر ادارہ اپنے دائرہ اختیارمیں رہ کرکام کرے، یہاں پربھی کچھ ادارے عوام کو چیک پوسٹوں پر ہراساں کررہے ہیں، عوام کو آزادانہ نقل وحمل کی اجازت نہیں، دشتک، کوتان،تاپلو سمیت سرحدی علاقوں کے عوام کی عزت نفس بری طرح مجروح کی جارہی ہے، قدم قدم پرایف سی، پولیس اورلیویز کی چیک پوسٹیں اگر عوام کی جان ومال کے تحفظ کیلئے ہیں تو عوام کے عزت نفس کابھی خیال رکھا جائے،انہوں نے کہاکہ سینیٹ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کی موجودگی کے باوجود آرڈیننس لائے جارہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ کامریڈ اکبر قائد،ماسٹرعبدالستار اور محمد ابراہیم مندی مرحوم نے جس طرح پوری زندگی پارٹی کے ساتھ وفا کیا اپنے نظریہ اورکمٹمنٹ پرقائم رہے، پارٹی ایسے مخلص ونظریاتی ساتھیوں کوکسی صورت فراموش نہیں کرے گی، نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما سینیٹرکہدہ اکرم دشتی نے کہاکہ بلوچ کے حقوق کی جدوجہد اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتی جب تک ایک مضبوط سیاسی پلیٹ فارم نہ ہو، نیشنل پارٹی کی جنگ حق واختیارکی جنگ ہے عوام اس جمہوری جنگ میں نیشنل پارٹی کا ساتھ دیں۔
انہوں نے کہاکہ اسٹیبلشمنٹ ہرالیکشن میں مداخلت کرتی رہی ہے مگر2018ء کے الیکشن میں اسٹیبلشمنٹ نے باقاعدہ اپنی پارٹی بنائی جسے وہ چھپاتے بھی نہیں ہیں، اب یہ پارٹی اسٹیبلشمنٹ کی تابعداری اوریس مین کاکردارنبھارہی ہے انہوں نے کہاکہ نااہل حکمرانوں نے ملک کو معاشی طورپر دیوالیہ بنادیاہے،ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق کرپشن کے خا تمہ کے دعویداروں کی حکومت میں کرپشن کی شرح میں بہت اضافہ ہواہے انہوں نے کہاکہ ہمارے مسئلے جمہوری تحریک سے جڑے ہوئے ہیں۔
ووٹ کو عزت دو کی تحریک عوام کی آوازبن چکی ہے،نیشنل پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے رکن واجہ ابوالحسن بلوچ نے کہاکہ ملک کے معاشی حالات بہت خراب ہیں پیداواری آمدنی مائنس میں چلی گئی ہے،کرپشن بہت بڑھ چکی ہے، ایکسپورٹ نہ ہونے کے برابرہیں۔
انہوں نے کہاکہ نیشنل پارٹی نے اپنے ڈھائی سالہ دور وزارت اعلیٰ میں بلوچستان میں نہ صرف تعلیم وترقی کا سفرشروع کیا بلکہ بلوچستان کو آگ وخون سے نکال کر امن وآشتی کے راستے پر گامزن کردیا تھا مگر اب ایک بارپھر حالات تیزی سے خرابی کی طرف جارہے ہیں، نیشنل پارٹی ضلع پنجگور کے صدر حاجی صالح محمد بلوچ نے کہاکہ ایسی نااہل اورنالائق حکومت اس سے پہلے کبھی نہیں گزری ہے، پہلے سرکاری ملازمین بھرتی کئے جاتے تھے اب وزیر بھرتی ہورہے ہیں۔
بھرتی شدہ وزراء کو عوام سے کوئی سروکارنہیں اس لئے وہ لوگوں سے بے عزتی سے پیش آتے ہیں کہ ہمیں آپ نے ووٹ نہیں دیا ہے جوہمیں لائے ہیں ہم انہی کو جواب دہ ہیں، تعزیتی ریفرنس سے نیشنل پارٹی مکران ریجن کے کوآرڈی نیٹر منصوربلوچ، مرکزی کمیٹی کے رکن پھلین بلوچ، ضلع کوئٹہ کے نائب صدر محمد حنیف کاکڑ، انجینئرحمیدبلوچ، طارق بابل، فضل کریم بلوچ،بی ایس اوپجارکے صوبائی رہنما عابدعمر بلوچ،احسان درازئی، یعقوب ستار، حاجی عبدالرشید، آصف فقیر نے بھی خطاب کیاجبکہ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مشکور انورنے سرانجام دئیے، تعزیتی ریفرنس میں سنیئررہنما ڈاکٹرنوربلوچ، نثار احمدبزنجو، رجب یاسین ودیگر رہنما بھی شریک تھے۔