|

وقتِ اشاعت :   March 20 – 2021

کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی زیر صدارت جمعہ کے روز منعقد ہونے والے اجلاس میں بلوچستان کوسٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ترقیاتی منصوبوں کی پیشرفت اور دیگر اہم امور کا جائزہ لیاگیا۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری، سیکرٹری فنانس، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ، سیکرٹری پی ایچ ای، سیکرٹری ماحولیات، سیکرٹری سیاحت، سیکرٹری روڈز اور سیکرٹری اطلاعات سمیت دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس کو ڈائریکٹر جنرل بلوچستان کوسٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی بابر خان نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ بی سی ڈی اے کے تحت کوسٹل لائن کی ماسٹر پلاننگ کی جارہی ہے، 5 فش لینڈنگ سائٹس کی فیزبلٹی سٹڈی ایکو ٹورزم اور 7ایکو ٹورسٹ ریزورٹس کی تعمیر، ساحلی شاہراہ پر9 ریسٹ ایریاز اور دیگرسہولتوں کے قیام کے منصوبے بھی بنائے جارہے 8فلوٹنگ جیٹیز کی تعمیر کے ساتھ ساتھ 5بیچ پارکس کی تعمیر کے منصوبے شامل ہیں۔

جبکہ سلی کورنیا پلانٹس کی 2نرسریز کا بھی قیام عمل میں لایا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ گڈانی، میانی ہور، کنڈ ملیر، اورماڑہ، پسنی، گوادر میرین ڈرائیور، جیونی سن سیٹ پوائنٹ پر ایکو ٹورسٹس ریزورٹس کی تعمیر کے منصوبے بنائے گئے ہیں اسی طرح واٹر سپورٹس کی سہولیات فراہم کرکے سیاحوں کی توجہ حاصل کی جائے گی۔اجلاس میں بی سی ڈی اے کے 10ایجنڈا آئٹمز پر بھی تفصیلی غور کیاگیا۔

اجلاس میں اتفاق کیاگیا کہ سیاحتی مراکز کے قیام و ترقی کے منصوبوں میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کو بروئے کار لایا جائے گا۔اجلاس میں وزیراعلیٰ نے بی سی ڈی اے کی گورننگ باڈی کی موجودہ کمپوزیشن کا جائزہ لینے اور ایکٹ میں ترامیم لانے کی تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ ساحلی سیاحتی مراکز کی تعمیر کے منصوبوں پر کام کی رفتار کو تیز کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اس صوبے کے بے پناہ وسائل سے نوازا ہے بلوچستان کے ساحلی اور دیگر علاقوں میں سیاحتی مراکز کو ترقی دیکر ملکی و غیر ملکی سیاحوں کی توجہ حاصل کی جاسکتی ہے۔دریں اثناء وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ بہترین کارکردگی دکھا کر ہی عوام کا اعتماد حاصل کیا جاسکتا ہے عوام کا اعتماد حاصل ہوگیا تو اللہ کا بہت بڑا کرم ہوگا آج کے اس جدیددور میں معمولی سی خرابی پر بھی عوام کی نظر ہوتی ہے۔

عام آدمی کو بنیادی سہولیات چاہئیں۔موجودہ حکومت صوبے کے مختلف علاقوں میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور زندگی کی دیگر سہولتوں کی ترسیل کو یقینی بنانے پر نہ صرف سنجیدگی سے توجہ دے رہی ہے بلکہ اس سلسلے میں ٹھوس اقدامات کئے جارہے ہیں۔ جس کا بلوچستان کے عوام خود بھی مشاہدہ کرسکتے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے فراہمی آب کی 250موجودہ اسکیموں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے منصوبے کا افتتاح کیا۔

اور اس موقع پر انہوں نے کہا کہ سرکاری وسائل کا درست استعمال یقینی بناتے ہوئے عوام کے بنیادی مسائل کو حل کیا جانا چاہئے۔ اس سے قبل وزیراعلیٰ کو سیکرٹری پبلک ہیلتھ انجینئرنگ صالح محمد ناصر نے سولرائزیشن منصوبے سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی اور بتایا کہ مذکورہ منصوبے پر عملدرآمد کیلئے کوئی علیحدہ پراجیکٹ کمیٹی نہیں بنائی گئی بلکہ منگی ڈیم پراجیکٹ کمیٹی ہی اس پراجیکٹ پر عملدرآمد کی ذمہ دار ہوگی۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ کو بتایاگیا کہ محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ نے 250موجودہ فراہمی آب اسکیموں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کی غرض سے یہ میگا پراجیکٹ بنایاہے صوبے کی تاریخ میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا منصوبہ ہے جس پر لاگت کا تخمینہ0 100ملین روپے ہے۔ رواں مالی سال کیلئے اس منصوبے پر 200ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔

منصوبے پر عمل کرنے سے 60فیصد محکمہ جاتی اور 40فیصد کمیونٹی سکیموں پر کیسکو کے بوجھ اور اواینڈ ایم کے اخراجات سے نجات مل جائے گی اس منصوبے کے پہلے فیز سے تقریباً5لاکھ 98ہزار 5سو 40 لوگ مستفید ہوں گے جبکہ اس پورے منصوبے کی تکمیل سے تقریباً 6ملین آبادی کو فائدہ ملے گا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے اپریل 2020میں اس میگا منصوبے کی منظور دی تھی۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ منصوبے پر تیزی اور معیار کو برقرار رکھتے ہوئے عمل کیا جائے کیونکہ موجودہ حکومت کم سے کم وقت میں اور وسائل کے بہترین استعمال کے ساتھ عوام کو زندگی کی بنیادی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنانے کو اپنی اولین ترجیح رکھتی ہے۔ وزیراعلیٰ نے 250 واٹر سپلائی سکیموں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں صرف ٹھیکے دیئے جاتے تھے ۔

زمین پر کوئی کام نظر نہیں آتاتھا۔ ناقص منصوبہ بندی کے باعث آج ہماری حکومت کو 25سال پرانے ترقیاتی منصوبے مکمل کرنے پڑ رہے ہیں۔ 7سو سے زائد ایسی سکیمات جو سرد خانے میں پڑی تھیں انہیں مکمل کیاگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت صوبے کے مختلف علاقوں کی یکساں ترقی اور تمام علاقوں کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی کیلئے جامع حکمت عملی کے تحت منصوبہ بندی کررہی ہے۔

انفراسٹرکچر، تعلیم، صحت اور پینے کے صاف پانی کے متعدد منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے، ہلک ڈیم، برج عزیز ڈیم اوربابر کچ ڈیم کے منصوبے مرتب کئے گئے ہیں جس سے یقینا کوئٹہ کے شہریوں کو پانی کی فراہمی کی جانب اہم قدم ہوگا۔ ہم نے یہ عہد کیا ہے کہ قوم کے وسائل کو کبھی ضائع نہیں ہونے دیں گے۔ مؤثر منصوبہ بندی کے تحت آگے بڑھیں گے کوئٹہ شہر کی ترقی و بہتری کیلئے 25ارب روپے سے زائد کے منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔

ہر ضلع میں ترتیب کے ساتھ ترقیاتی پروگرام مرتب کررہے ہیں تعلیم، صحت اور سپورٹس کے فروغ کیلئے صوبے کے33اضلاع میں سپورٹس کمپلیکس تعمیر کئے جارہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم پائیدار ترقی کے بغیر صوبے کو آگے نہیں لے جاسکتے۔ صوبے کی ترقی کیلئے ہمیں اپنے حلقوں سے باہر نکلنا ہوگا تب جاکے پسماندگی اور محرومی کا خاتمہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت مواصلاتی نظام کو بہتر بنانے کیلئے سڑکوں کا جال بچھا رہی ہے۔ صوبے کی تاریخ میں پہلی بار کینسر ہسپتال پر کام کا آغازکیاگیا ہے۔ بی ایم سی میں کارڈیک ہسپتال کے منصوبے پر کام تیزی سے جاری ہے، ہنر مند پروگرام کا آغاز بھی ہماری حکومت نے ہی کیا ہے جس سے نوجوانوں کو ہنر مند بناکر باعزت روزگار کے مواقع فراہم کئے جائیں گے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہماری حکومت نے گذشتہ اڑھائی سالوں میں 18ہزار نوجوانوں کو سرکاری ملازمتیں فراہم کی ہیں اور ہم اپنی پانچ سالہ مدت کے دوران انشاء اللہ 30ہزار لوگوں کو روزگار فراہم کریں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ صوبہ اور شہر ہمارا گھر ہے اس کی ترقی کیلئے ہم سب کو مل جل کر کام کرنا ہوگا۔ آج صوبے میں امن وامان کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

چیلنجز کے باوجود صوبے کی گورننس اور اقتصادری صورتحال کو بہتر کرنے کیلئے ٹھوس حکمت عملی اپنائی گئی ہے۔اس سے قبل وزیراعلیٰ نے صوبائی وزیر پی ایچ ای حاجی نور محمد دمڑ، صوبائی وزیر لائیو سٹاک مٹھا خان کاکڑ اور صوبائی مشیر محنت و افرادی قوت حاجی محمد خان لہڑی کے ہمراہ واٹر سپلائی سکیم کا معائنہ کیا۔تقریب سے صوبائی وزیر پی ایچ ای حاجی نور محمد دمڑ، اور سیکرٹری پی ایچ ای صالح محمد ناصر نے بھی خطاب کیا۔