|

وقتِ اشاعت :   June 17 – 2025

ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ جاری، امریکی ردعمل اور عالمی سطح پر نئی پیچیدگیاں

واشنگٹن/تہران/تل ابیب*: سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ جنگ بندی کی بجائے “حقیقی خاتمہ” کے حامی ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر ایران نے امریکی مفادات پر حملہ کیا تو “دھکیلنے کا وقت آ گیا ہے”، اور انہوں نے ایران کو امریکی فوجیوں پر حملہ کرنے سے خبردار کیا۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ ایران سے کسی امن مذاکرات کے لیے رابطہ نہیں کر رہے ہیں اور یہ کہ ایران کو ان کے پیش کردہ معاہدے کو تسلیم کرنا چاہیے تھا، جو کہ “بہت سی جانوں کو بچا سکتا تھا”۔

*ایران اور اسرائیل کی جانب سے مزید فضائی حملے:*
ایران نے اسرائیل کے خلاف ایک نئی اور طاقتور میزائل لہر شروع کر دی ہے، جس میں ایران کی پاسداران انقلاب کے دستے شامل ہیں۔ اسرائیل نے بدلے میں ایران کے جوہری اور فوجی تنصیبات پر حملے جاری رکھے ہیں۔ اسرائیل کی حالیہ فضائی کارروائیوں میں ایران کے اعلیٰ فوجی کمانڈر علی شدمانی سمیت متعدد اہم شخصیات کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے حملوں میں ایران کے جوہری پلانٹس اور میزائل لانچرز کو تباہ کر دیا گیا ہے، جبکہ ایران نے اسرائیلی جاسوسوں کے نیٹ ورک کو بے نقاب کرتے ہوئے متعدد مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے۔

چین کی امریکی مداخلت پر تنقید:
چین نے ایران اور اسرائیل کے درمیان تنازعہ میں امریکی مداخلت پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ امریکہ کی دھمکیاں اور دباؤ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھا رہے ہیں۔ چین نے ٹرمپ کے اس بیان کی مذمت کی جس میں انہوں نے ایران کے شہریوں کو فوری طور پر انخلا کی ہدایت دی تھی۔

*ایران کا جوہری پروگرام اور اسرائیل کا حملہ:
اسرائیل اور امریکہ کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام پر شدید اختلافات ہیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ ایران جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے قریب ہے، جب کہ امریکی انٹیلی جنس کے مطابق ایران ابھی کئی سال دور ہے۔ اسرائیل نے ایران کے جوہری مرکز نطنز کو نشانہ بنایا، لیکن ایران کا فورڈو ایٹمی پلانٹ ابھی تک محفوظ ہے۔

ایران میں موساد کے ایجنٹوں کی گرفتاری:
ایران نے اسرائیل کے جاسوسوں کے نیٹ ورک کا پردہ فاش کرتے ہوئے کئی افراد کو گرفتار کیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار شدگان موساد کے ایجنٹ تھے اور انہوں نے ایران میں تخریبی کارروائیوں میں حصہ لیا تھا۔ ایران نے اسرائیل کے فضائی حملوں کے بعد اپنی اندرونی سیکیورٹی کو مزید سخت کر دیا ہے۔

نتیجہ:
ایران اور اسرائیل کے درمیان یہ تنازعہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے، اور عالمی سطح پر اس کے اثرات نظر آ رہے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل دونوں کا کہنا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام عالمی امن کے لیے خطرہ بن چکا ہے، جب کہ ایران نے اس کے خلاف عالمی طاقتوں کے دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے۔ اس وقت یہ بحران عالمی سطح پر ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے، جس کا حل تلاش کرنا انتہائی پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔