کراچی کے علاقے لیاری میں جمعے کے روز ایک افسوسناک واقعے میں پانچ منزلہ رہائشی عمارت زمین بوس ہوئی، جس کے نتیجے میں 27 افراد جاں بحق جبکہ 8 افراد زخمی ہو گئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں 16 مرد، 9 خواتین اور 2 معصوم بچے شامل ہیں۔ یہ واقعہ شہر میں گہرے رنج و غم کا سبب بن گیا ہے۔
رات گئے ریسکیو ادارے نے ڈیڑھ سالہ بچی کی لاش نکالی، جس کی شناخت مقدس کے نام سے ہوئی ہے۔ جبکہ صبح مزید دو لاشیں نکالی گئیں، ملبے سے نکالی جانے والے چودہ سالہ بچے کی شناخت زید کے نام سے ہوئی ہے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق ملبے کے نیچے مزید کسی فرد کے دبے ہونے کی اطلاع نہیں ہے، ریسکیو آپریشن مکمل احتیاط کے ساتھ 50 گھنٹوں تک جاری رکھا گیا۔ حکام نے اطراف کی چار عمارتوں کو حفاظتی تدابیر کے تحت خالی کرا لیا ہے تاکہ مزید کسی حادثے سے بچا جا سکے۔
دلچسپ اور تشویشناک امر یہ ہے کہ سرکاری کاغذات میں متاثرہ عمارت کو محض تین منزلہ قرار دیا گیا تھا، جب کہ حقیقت میں یہ عمارت پانچ منزلہ تھی۔ یہ انکشاف بلدیاتی نظام میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے، جو انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بنا۔
خیال رہے کہ کراچی میں لیاری کے علاقے بغدادی میں جمعہ کی صبح 5 منزلہ عمارت گرنے کا افسوس ناک واقعہ پیش آیا جس کے نتیجے عمارت مکمل طور پر زمین بوس ہوگئی، سانحے سے متاثرہ خاندانوں پر قیامت ٹوٹ پڑی جبکہ تباہ شدہ عمارت کے ساتھ والی بلڈنگ کی سیڑھیاں بھی گر گئیں۔
ایک کے بعد ایک لاش ملنے پرعلاقہ مکین سوگوارہیں، ملبے کے پاس موجود افراد اپنے پیاروں کی خیریت سے متعلق فکرمند ہیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق حکام کے مطابق جاں بحق افراد میں 55 سالہ حوربائی، 35 سالہ وسیم ، 26 سالہ روہت ، 23 سالہ گیتا ،21 سالہ پرانتک ولد ہارسی، 35 سالہ سنیتا ولد دیا لال اور 28 سالہ پریم کی شناخت ہوئی۔
دیگر جاں بحق ہونے والوں میں گلاب فاطمہ زوجہ بابو، دیا لال ولد شیو جی ، کرشن ولد دیا لال ، ارجن ولد وشال ، وندنہ ولد کیلاش ، ایوش ولد جمنا داس، سانی زوجہ جمنہ ، پرکاش ، چیتن ولد شیو جی ،پھول بائی زوجہ کرشن شامل ہیں جبکہ 30 سالہ مرد اور7 سالہ بچے کی لاش ناقابل شناخت ہے۔
دوسری جانب زخمیوں میں 50 سال کی فاطمہ، 35 سال کی چندا، 25 سال کا راشد اور 45 سال کا یوسف بھی شامل ہیں۔
ریسکیو اہلکاروں کو رات کے وقت منہدم عمارت کا ملبہ ہٹانے میں اندھیرے کے باعث مشکلات کا سامنا رہا ہے، آپریشن انچارج ریسکیو 1122 سندھ کا کہنا ہے کہ امدادی ٹیمیں اور علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد ملبہ ہٹانے میں مصروف ہے، ہیوی مشینری کا بھی استعمال کیا جا رہا ہے، ریسکیو کا 70 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو کارروائی مکمل کرنے میں مزید کئی گھنٹے لگیں گے، مزید کئی افراد ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔
ریسکیو حکام کا بتانا ہے کہ عمارت میں 12 خاندان رہائش پزید تھے، ہیوی مشینری سے ملبے کو ہٹانے کا سلسلہ جاری ہے جبکہ گرنے والی عمارت کے ساتھ جڑی 2 اور 7 منزلہ عمارت کو بھی خالی کروالیا گیا ہے۔
گرنے والی عمارت کے ہر فلور پر 3 پورشن بنائے گئے تھے، 3 سال پہلے اس عمارت کو مخدوش قرار دیا گیا تھا مگر نہ مکینوں نے عمارت چھوڑی، نہ انتظامیہ نے ایکشن لیا۔
جائے حادثہ پر ایس ایس پی سٹی عارف عزیزنے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ لیاری کی منہدم عمارت کے امدادی کاموں میں رش کے باعث بہت دشواری کا سامنا رہا، ایمبولینسز کا راستہ بھی بلاک ہو رہا ہے، ان کا کہنا تھا کہ مخدوش عمارتوں کو پولیس ضلعی انتظامیہ کے ہمراہ خالی کرائے گی۔
کمشنر کراچی سید حسن نقوی نے کہا تھا کہ مخدوش عمارتوں کے مکین خود دوسری جگہ منتقل ہوجائیں، کسی کو زبردستی گھروں سے نہیں نکال سکتے، غیر قانونی تعمیرات پرایس بی سی اے کے ساتھ اجلاس کروں گا۔
ڈپٹی کمشنر ساؤتھ کراچی جاوید کھوسو نے کہاکہ متاثرہ عمارت کے مکینوں کو 2022، 2023 اور 2024میں نوٹس دیے گئے تھے، ٹیم تشکیل دی ہے، 107 میں سے 21 زیادہ خطرناک عمارتیں ہیں، ان 21 عمارتوں میں سے14 کو خالی کراچکے ہیں، لیاری واقعہ پر فوری کسی کو ذمہ دار قرار دینا قبل ازوقت ہے۔
صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا ہے کہ کراچی میں ایسی بہت سی مخدوش عمارتیں ہیں، رہائشیوں کو یہ عمارتیں خالی کرنے کے نوٹس بھی دیے گئے ہیں لیکن وہ پھر بھی جگہ نہیں چھوڑتے، لوگوں کی مجبوریاں ہیں لیکن قانون پر عمل درآمد کروانا ضروری ہے۔
صوبائی وزیر نے شہریوں کو گھروں کی خریداری کرتے ہوئے احتیاط برتنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ کچھ بلڈرز ضوابط اور قوانین کی پاسداری نہیں کرتے، انھیں بلیک لسٹ کرنا پڑے گا۔
وزیر مملکت برائے مذہبی امور کھیئل داس کوہستانی کا لیاری میں جائے وقوعہ کا دورہ
وزیر مملکت برائے مذہبی امور کھیئل داس کوہستانی نے کہا ہے کہ لیاری سانحے کی اولین ذمہ داری سندھ حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ کراچی کے علاقے لیاری میں عمارت گرنے کے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کھیئل داس کوہستانی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ وفاق اپنی ذمہ داری پوری کر رہا ہے، تاہم حکومت سندھ کو اس سانحے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔
کھیئل داس کوہستانی کا کہنا تھا کہ حکومتوں کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ خطرناک عمارتوں میں رہائش پذیر افراد کو متبادل جگہ فراہم کریں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عمارت گرنے کے واقعے کی مکمل اور شفاف انکوائری ہونی چاہیے تاکہ ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے اور متاثرین کو انصاف مل سکے۔
لیاری میں گرنے والی عمارت کو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے مخدوش قرار دے دیا تھا۔ ڈی جی ایس بی سی اے اسحاق کھوڑو کا کہنا تھا کہ یہ عمارت خستہ حال تھی اور انیس سو اناسی سے بھی پرانی تھی۔ واقعے کی رپورٹ بنائی جا رہی ہے۔ دیکھ رہے ہیں خستہ حال پانچ سو چھبیس عمارتوں میں یہ شامل تھی یا نہیں۔
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے لیاری بغدادی میں جائے وقوع کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انھوں نے کہا کہ کراچی ریسکیو آپریشن تیزی سے جاری ہے، ریسکیو آپریشن میں 1122، کے پی ٹی ، ضلع انتظامیہ حصہ لے رہی ہے، ریسکیو آپریشن مکمل ہونے میں کچھ وقت لگے گا۔