|

وقتِ اشاعت :   December 8 – 2025

پنجاب میں ٹریفک آرڈیننس 2025 کے معاملے پر ٹرانسپورٹرز اور محکمہ ٹرانسپورٹ پنجاب کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کے مطابق حکومت کی جانب سے ٹریفک آرڈیننس 2025 پر عمل درآمد روک دیا گیا ہے۔

پبلک اینڈ گڈز ٹرانسپورٹرز کی جانب سے آج پنجاب بھر میں موٹر وہیکل آرڈیننس 2025 کے خلاف غیر معینہ مدت تک ہڑتال کا اعلان کیا گیا تھا۔ جس کے نتیجے میں پبلک اور مال بردار گاڑیوں کے اڈے بند ہیں جبکہ صوبے بھر میں سبزی اور پھل منڈیوں کو سپلائی بھی معطل رہی۔

اس حوالے سے صوبائی حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان مذاکرات کے بعد وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان نے کہا کہ مذاکرات کامیاب رہے اور ابھی ٹریفک آرڈیننس 2025 پر عمل درآمد روک دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹرز کے مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون کے نفاذ سے قبل ہم تمام اسٹیک ہولڈرز سے بات نہیں کرسکے، آئندہ چند روز میں ٹرانسپورٹرز کے ساتھ بیٹھیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ امید ہے کہ بات چیت سے زیادہ قابلِ عمل مسودہ سامنے آئے گا۔

دوسری جانب ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے تحریری یقین دہانی کا انتظار ہے، مطالبات پورے نہ ہوئے تو پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ٹرانسپورٹرز کا مطالبہ تھا کہ حکومت ٹریفک آرڈیننس 2025 فوری طور پر واپس لے، کیونکہ موجودہ صورتحال میں کرائے کی رقم سے ڈبل جرمانے کیے جا رہے ہیں، جو قابلِ قبول نہیں۔

ملک بھر میں ٹرانسپورٹرز نے آج پہیہ جام کر رکھا ہے۔ پنجاب سمیت پشاور اور کراچی میں بھی ٹرانسپورٹرز کی جانب سے ہڑتال کا اعلان کیا گیا تھا۔

صدر پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس ملک شہزاد اعوان کا کہنا تھا کہ کراچی میں جن کنٹینرز اور گاڑیوں پر برآمدی مال لدا ہے، صرف انھیں پورٹ تک جانے کی اجازت ہے، سامان آف لوڈ کرنے کے بعد تمام گاڑیاں اور کنٹینرز احتجاجا کھڑے ہوجائیں گے۔

ہڑتال کے باعث کراچی میں ٹرک، ڈمپر، کنٹینرز اور ہیوی گاڑیاں کھڑی ہیں، ان کا کہنا تھا جب تک وفاقی حکومت، پنجاب اور سندھ حکومت ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کرتے ہڑتال جاری رہے گی۔