ریاض/ تہران/ تل ابیب:امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد تہران کے جوابی حملوں کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی شدت اختیار کر گئی، ایرانی فوج کی جانب سے بحرین میں امریکی بحریہ کے ہیڈکوارڑ اور فوجی اڈوں پر حملوں کے نتیجے میں 160 امریکیوں کے ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں میں جاں بحق افراد کی تعداد 787 ہوگئی جب کہ ایران کے اسرائیل سمیت عرب ممالک میں قائم امریکی بیسز اور سفارت خانوں پر حملے جاری ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق چار روز سے جاری اسرائیلی و امریکی حملوں میں اس کے 787 شہری جاں بحق ہوچکے ہیں اور سیکڑوں زخمی ہیں۔ یہ اعداد و شمار ایرانی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی پیش کیے ہیں۔
انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک امریکی بیسڈ تنظیم کے مطابق حالیہ حملوں میں ایران میں 742 شہری ہلاک ہوچکے ہیں جن میں 176 بچے ہیں۔
ایرانی آبدوز سمیت 17 بحری جہازوں کو تباہ کرنے کا امریکی دعویٰ
: امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج نے ایران میں تقریباً 2,000 اہداف پر حملے کیے ہیں۔
سینٹکام کے مطابق حملوں میں ایران کی آبدوزیں اور 17 بحری جہاز بھی تباہ کر دیے گئے ہیں، جس کے بعد خلیج عرب، ہرمز اور خلیج عمان میں کوئی ایرانی بحری جہاز موجود نہیں۔
امریکی حملوں کے جواب میں ایران نے 500 بیلسٹک میزائل اور 2,000 سے زائد ڈرون داغے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی فضائیہ، بحریہ اور قیادت کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران امریکا سے بات کرنا چاہتا ہے مگر اب بہت دیر ہو چکی ہے اور اہداف کے حصول تک جنگ جاری رہے گی۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا ایران کے میزائل پیڈز اور جوہری ہتھیاروں کے اہداف کو تباہ کرنے کے لیے کارروائیاں کر رہا ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور مقاصد کے حصول تک امریکی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
تہران میں ایرانی لڑاکا طیارے کو مار گرایا: اسرائیلی فوج
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی لڑاکا طیارے نے تہران میں ایرانی طیارے کو مار گرایا۔ دعویٰ کے مطابق ایرانی طیارےکو اسرائیلی ایف 35 طیارے نے تہران کی فضا میں نشانہ بنایا۔
مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب کر لیا گیا، اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ
اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب کر لیا گیا ہے۔
تاہم اس خبر کی تاحال ایرانی سرکاری حلقوں کی جانب سے کوئی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔
ایرانی میڈیا نے پاسداران انقلاب کے حوالے سے خبر دی ہے کہ سپریم لیڈر کے انتخاب کے لیے مجلس خبرگان کا اجلاس جاری ہے اور نئے سپریم لیڈر کے انتخاب میں تقریباً ایک ہفتہ لگ سکتا ہے۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ ایران کی مذہبی و سیاسی قیادت کے اندرونی مشاورتی عمل کے بعد سامنے آیا، لیکن سرکاری ذرائع خاموش ہیں جس کے باعث صورتِ حال غیر واضح ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیر دفاع نے دھمکی دی ہے کہ اسرائیلی فوج خامنہ ای کے بعد مقرر کیے جانے والے کسی بھی جانشین کو نشانے پر رکھے گی۔
ایران کا اسرائیل کے خلاف وعدہ صادق 4 کی 16 ویں لہر شروع
ایران نے اسرائیل کے خلاف میزائلوں اور ڈرونز سے تازہ حملہ کر دیا ہے جبکہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے آپریشن وعدہ صادق 4 کی 16ویں لہر شروع کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔
پاسداران انقلاب اسلامی کے مطابق اسرائیل کی جانب بڑی تعداد میں بیلسٹک میزائل داغے گئے ہیں، جن کا ہدف مخصوص عسکری اور اسٹریٹیجک مقامات بتائے جا رہے ہیں۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ میزائل حملوں کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں ڈرونز بھی اسرائیل کی سمت روانہ کیے گئے ہیں۔
دبئی میں امریکی قونصل خانے پر ڈرون حملہ، آگ بھڑک اٹھی
متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں واقع امریکی قونصل خانے کے قریب زور دار دھماکوں کے بعد آگ اور دھویں کے بادل دیکھے گئے، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق ریاستہائے متحدہ امریکہ کا قونصل خانہ دبئی کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد عمارت کے ایک حصے میں آگ بھڑک اٹھی۔
عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی جبکہ آسمان پر سیاہ دھواں بلند ہوتا دیکھا گیا۔
ایران کے ساتھ بات چیت کے لیے اب بہت دیر ہو چکی، ٹرمپ
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو کہا ہے کہ ایران کے ساتھ بات چیت کے لیے اب بہت دیر ہو چکی ہے، حالانکہ تہران مذاکرات کا خواہاں ہے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ایران کا فضائی دفاع، فضائیہ، بحریہ اور قیادت سب ختم ہوچکا، اب وہ بات کرنا چاہتے ہیں جس پر میں نے کہا کہ اب بہت دیر ہو چکی ہے۔
ایران کیخلاف جنگ غیرقانونی اور جھوٹ پر مبنی ہے، امریکی سینیٹرز
امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹک سینیٹر ایلزبتھ وارن نے ایران کے خلاف جاری جنگ پر ٹرمپ انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ غیر قانونی جنگ جھوٹ پر مبنی ہے۔
سینیٹر وارن کا کہنا تھا کہ خفیہ بریفنگ کے بعد انہیں یہ تاثر ملا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے پاس ایران سے متعلق کوئی واضح حکمتِ عملی موجود نہیں۔ ان کے مطابق صورتحال تصور سے بھی زیادہ خراب ہے اور اسی وجہ سے وہ پہلے سے زیادہ فکرمند ہیں۔
امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹک اقلیتی لیڈر چک اسکمر نے بھی انٹیلی جنس کمیٹی کی بریفنگ کے بعد تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کا جواز بار بار تبدیل کیا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق کبھی رجیم چینج، کبھی نیوکلیئر ہتھیار، کبھی میزائل پروگرام اور کبھی دفاع کا مؤقف اپنایا جا رہا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کوئی واضح منصوبہ بندی موجود نہیں۔
سینیٹر وارن نے کہا کہ یہ جنگ ایران کی جانب سے امریکا کو کسی فوری خطرے کے بغیر شروع کی گئی اور اس میں قیمتی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔ انہوں نے جنگ کے خاتمے کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کا عزم ظاہر کیا۔
ادھر ڈیموکریٹک سینیٹر بلومینٹل نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ امریکا ممکنہ طور پر ایران میں زمینی افواج بھیجنے پر غور کر رہا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔
امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے ٹرمپ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو کو غزہ کو تباہ کرنے کے لیے اربوں ڈالر چاہے تھے جو امریکا نے اسے دیے، نیتن یاہو ایران کے ساتھ جنگ چاہتا تھا، ٹرمپ نے اس کی یہ خواہش بھی پوری کر دی۔
سعودی عرب میں امریکی سفارت خانے کی مشرقی شہر کے لیے وارننگ
سعودی عرب میں امریکی سفارتخانے نے مشرقی شہر ظہران پر ممکنہ اور قریب الوقوع میزائل یا ڈرون حملے کے خدشے کے پیش نظر سیکیورٹی الرٹ جاری کیا ہے۔
اس شہر میں امریکی قونصل خانہ موجود ہے، جہاں سعودی سرکاری آئل کمپنی آرامکو کا ہیڈکوارٹر بھی واقع ہے۔
ایرانی ڈرونز نے منگل کے روز ریاض میں امریکی سفارتخانے کو نشانہ بنایا، جس سے معمولی نقصان ہوا اور آگ بھڑک اٹھی۔ اس سے قبل کویت میں امریکی مشن کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔
Leave a Reply