اسلام آباد: پاک فوج کے بہادر جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر افغانستان سے آنے والے دہشت گردوں کا پاکستانی چیک پوسٹوں پر حملہ ناکام بنا دیا اورچھ آپریشنل کمانڈرز سمیت 15سے زائد زیادہ دہشت گردوں کو ہلاک اور 20سے زائد کو زخمی کر دیا ، پاک فوج کے پانچ جوان بھی دہشت گردوں سے جھڑپ میں جام شہادت نوش کر گئے جن کی کور ہیڈ کوارٹرز پشاور میں نماز جنازہ ادا کر دی گئی اور بعد ازاں انھیں مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کر دیا گیا ، سیاسی و عسکری قیادت نے وطن کی خاطر جانیں قربان کرنے والے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا جبکہ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے افغانستان سے کہا ہے کہ وہ اپنی طرف سرحد پر دہشت گردوں کی آمدو ورفت روکنے کے لئے اقدامات اٹھائے۔ پاکستان نے معاملہ امریکی اتحادی افواج کے ساتھ بھی اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔جبکہ افغان نائب سفیر کو طلب کرکے شدید احتجاج بھی کیا گیا۔ترجمان پاک فوج میجر جنرل اصف غفور کے مطابق اتوار اور پیر کی درمیانی رات دہشت گردوں کے ایک گروہ نے افغان سرحد سے آکر مہمند ایجنسی میں واقع تین چیک پوسٹوں پر حملہ کرنے کی کوشش کی تاہم پاک فوج کے جوان کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کے لئے چوکس اور پوری طرح تیار تھے جنھوں نے ان دہشت گردوں کو روکا اور فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں پندرہ سے زیادہ دہشت گردوں کو مارا گیا جبکہ بیس سے زیادہ زخمی ہوئے۔ترجمان نے واضح کیا کہ مارے جانے والے دہشت گردوں میں چھ آپریشنل کمانڈر بھی شامل ہیں جن میں خوچیباجوڑی، زر محمد عرف مدنی، حذیفہ، سنگرے، لکھکاری اورسنگین شامل ہیں ترجمان نے واضح کیا کہ پاک فوج کسی دہشت گرد کو نہیں چھوڑے گی جبکہ پانچ فوجی جوان بھی جام شہادت نوش کر گئے جن میں نائیک ثناء اللہ،نائیک صفدر ، سپاہی الطاف،سپاہی نیک محمد اور سپاہی انور شامل ہیں ان شہدا کے جسد خاکی پشاور لائے گئے جہاں کور ہیڈ کوارٹرز میں ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی جس میں گورنر خیبر پختونخواہ اقبال ظفر جھگڑا، وزیرا علی پرویز خٹک،کور کمانڈر پشاور لیفٹینینٹ جنرل نذیر احمد بٹ اور دیگر سینئر فوجی و سول حکام نے شرکت کی بعد ازاں ان شہدا کے جسد خاکی ان کے آبائی علاقوں میں لے جائے گئے جہاں انھیں پورے فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کر دیا گیا ۔ پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر باجوہ نے ان شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ انہوں نے وطن کی مٹی کی خاطر اپنی جانیں قربان کر دیں ساتھ ہی انہوں نے دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنانے پر پاک فوج کے جوانوں کی بہادری کی تعریف کی اور کہا کہ انہوں نے بر وقت اور موثر جواب دیا ان کا کہنا تھا کہ افغان حکام کو چاہیئے کہ وہ سرحد پر اپنی طرف اپنے فوجی جوان تعنیات کریں تاکہ افغان سرحد کی سیکیورٹی موثر ہو دہشت گرد دونوں ممالک کے لئے مشترکہ خطرہ ہیں اور ان کی پاک افغان سرحد پر نقل و حرکت کو روکا جائے دوسری طرف وزیر اعظم نواز شریف نے بھی اپنے ایک بیان میں ان شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ وطن کے دفاع کے لئے جانیں قربان کرنے والے ہمارے ہیروز ہیں ترجمان دفتر خارجہ نے اس حملہ کی شدید مذمت کی اور کہا کہ وطن کی خاطر جانیں دینے والوں کو خراج عقیدت پیش کیا ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک فوج نے یہ معاملہ افغانستان میں موجودہ امریکی اتحادی افواج کے کمانڈر کے ساتھ اٹھانے کا بھی فیصلہ کیا ہے اور اس سارے واقعے کی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا ہے ۔دریں اثناء افغانستان سے دہشتگردوں کا پاکستانی چوکیوں پر حملے کے نتیجے میں پاکستان کا افغانستان سے شدید احتجاج کیا افغانی سفیر عبدالناصر یوسیفی کو احتجاجی مراسلہ تھما دیا گیا ۔ تفصیلات کے مطابق پیر کے روز پاکستان میں تعینات افغانستان کے نائب سفیر عبدالناصر کو دفتر خارجہ طلب کر کے دہشتگردوں کی طرف سے افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا گیا کہ سرحدپار سے حملے کسی صورت برداشت نہیں افغانستان دہشت گردوں کیخلاف فوری اور موثر کارروائی کرے ،دفتر خارجہ نے کہا کہ پاک افغان بارڈر اسی لئے بند ہے کیونکہ دہشتگرد افغانستان سے پاکستان میں داخل ہو کر پاکستان میں دہشتگردی پھیلاتے ہیں ۔ دفتر خارجہ نے احتجاجی مراسلہ تھماتے ہوئے افغان سفیر سے مطالبہ کیا ہے کہ 76 دہشتگردوں کے حوالے سے دی گئی حالیہ فہرست پر افغان حکومت کی جانب سے کارروائی عمل میں کیوں نہیں لائی گئی جبکہ افغان حکومت کو چاہئے تھا کہ وہ پڑوسی ملک کے تحفظات کو دور کرتے ہوئے دہشتگردوں کے خلاف کارروائی عمل میں لاتی ۔احتجاجی مراسلے میں کہا گیا کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان میں دہشتگردوں کے حملے کیلئے استعمال ہورہی ہے۔افغانستان واقعے کی تحقیقات کرکے پاکستان کو آگاہ کرے ۔واضح رہے کہ گزشتہ رات گزشتہ رات مہمند ایجنسی میں دہشت گردوں نے سرحد پار کرتے ہوئے پاک فوج کی تین چیک پوسٹوں پر حملہ کیا تھا حملے کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں پانچ جوان شہید اور دس دہشت گرد ہلاک ہو گئے تھے۔