کوئٹہ; بلوچستان فزیوتھراپی ایسوسی ایشن کا علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ 35 دنوں سے جاری۔ بلوچستان فزیوتھراپی ایسوسی ایشن اپنے پانچ جائز اور آئینی مطالبات کو لے کر پچھلے پینتیس دنوں سے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ لگائے بیٹھے ہیں۔
Posts By: اسٹاف رپورٹر
رکمانڈر لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی کاپی ڈی ایم اے بلوچستان کا دورہ
کوئٹہ; کمانڈ ر12کور کوئٹہ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی نے پی ڈی ایم اے بلو چستان کا دورہ کیا جہاں انہیں صوبے میں سیلابی صورتحال اور مختلف اداروں کی جانب سے جاری امدادی سرگرمیوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی،
منصوبہ بندی سے بلوچستان کو پسماندہ رکھاگیاہے،جماعت اسلامی
کوئٹہ; امیرجماعت اسلامی بلوچستان مولانا عبدالحق ہاشمی نے کہاکہ بجلی کا کم استعمال،غربت بے روزگاری زراعت کی تباہی ومہنگائی کی وجہ سے بلوچستان کے عوام کا حق بنتاہے کہ یہاں بجلی کا لوڈشیڈنگ نہ اورقیمت بہت کم ہو۔بلوچستان کے عوام کو ترقی میں شامل کرنے یا ریلیف دینے کے حوالے سے سب دعوے واعلانات بے عمل اور ڈرامے ہیں۔
کا بینہ میں کسی قسم کا کوئی اختلاف نہیں،بلو چستان بینک کی فیزیبلیٹی بن رہی ہے : عبد الرحمن کھیتران
کوئٹہ:صوبائی وزیر خزانہ ومو اصلات سر دار عبد الرحمن کھیتران نے کہا ہے کہ کا بینہ میں بجٹ پر اختلافات کی باتیں محض افوائیں ہیں، کا بینہ میں کسی قسم کا کوئی اختلاف نہیں ہے اورنہ ہی اس وجہ سے بجٹ تاخیر کا شکار ہو ا، گزشتہ دور میں ٹھیکیداروں اور دوستو ں کو بجٹ میں نوازا گیا جبکہ اس بجٹ میں پار لیمنٹرینز کی سفارشات پر عوامی نو عیت کے منصوبے بجٹ میں شامل کئے گئے ہیں.
عبدالواحد بلوچ جوائنٹ صوبائی الیکشن کمشنر(الیکشنز) بلوچستان تعینات
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایک اعلامیہ کے مطابق عبدالواحد بلوچ کو جوائنٹ صوبائی الیکشن کمشنر(الیکشنز) بلوچستان تعینات کر دیا گیا ہے۔
سندھ دھرتی پر بلوچ خواتین پر تشدد بلوچ معاشرے میں سندھی حکمرانوں بارے میں کئی سوالات جنم لے رہے ہیں، سمی دین بلوچ
بلوچ خواتین نے کراچی میں لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے پرامن احتجاج پر سندھ حکومت کے وحشیانہ اقدام اور لاٹھی چارج کو بلوچ قبائلی روایات کی پامالی قراردیتے ہوئے کہا کہ خواتین اور بچوں کے تقدس کا احترام نہ رکھنے اور انہیں گرفتار کرکے پولیس موبائلوں میں ڈالنے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ اور کہا کہ سندھ دھرتی پر بلوچ خواتین پر سندھ پولیس کی جانب تشدد کرنے پر بلوچ معاشرے میں سندھی حکمرانوں کے بارے میں کئی سوالات جنم لے رہے ہیں۔
بلوچ خواتین اور بچوں پر سندھ پولیس کا تشدد, متعدد گرفتار، شیرخوار بچے شدید زخمی
بلوچ مظاہرین اور سی ٹی ڈی حکام کے درمیان ہونے والے مذاکرات سے پولیس مکر گئی، مظاہرین کو سندھ اسمبلی کے قریب روک دیا کراچی یونیورسٹی کے دو بلوچ طلبا کی جبری گمشدگی کے خلاف احتجاجی مظاہرین پر سندھ پولیس کا تشدد، متعدد گرفتار, شیر خوار بچے زخمی ہوگءے۔ مظاہرین اور سی ٹی ڈی حکام… Read more »
بلوچ مظاہرین کو سندھ پولیس کی یقین دھانی، سندھ اسمبلی کے باہر احتجاجی دھرنا عارضی طور ختم
کراچی یونیورسٹی کے دو بلوچ طلبا کی جبری گمشدگی کے خلاف احتجاجی مظاہرین نے سندھ پولیس کی جانب لاپتہ طلبا کی بازیابی کی یقین دھانی کے بعد مظاہرین نے گزشتہ رات سندھ اسمبلی کے سامنے احتجاجی دھرنے کو عارضی طور پر ختم کردیا۔
کراچی یونیورسٹی کے بلوچ طلباءکی جبری گمشدگی کے خلاف سندھ اسمبلی کے سامنے احتجاجی مظاہرہ
کراچی یونیورسٹی کے دو بلوچ طلبا کی جبری گمشدگی کے خلاف احتجاجی دھرنا کراچی پریس کلب کے باہر تیسرے روز احتجاجی مظاہرے میں تبدیل ہوگیا۔ سینکڑوں کی تعداد میں خواتین اور بچوں نے بھی شرکت کی۔ مظاہرین نے کراچی ہریس کلب سے سندھ اسمبلی تک مارچ کرنے کی کوشیش کی تاہم سندھ پولیس نے مظاہرین کو سندھ اسمبلی کے قریب فوارہ چوک کے مقام روک دیا۔ جہاں مظاہرین نے دھرنا دے دیا۔ تاہم مظاہرین کا صبر لبریز ہوگیا اور مظاہرین نے تمام رکاوٹوں کو عبور کر کے سندھ اسمبلی کے سامنے پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔جہاں سندھ حکومت اور سیکیورٹی اداروں کے خلاف سخت نعرے بازی کی۔ یہ احتجاجی مظاہرہ لاپتہ طلبا کے لواحقین کی اپیل پر کیا گیا۔ مظاہرے کو بلوچ یکجہتی کمیٹی کراچی، واءس فار بلوچ مسنگ پرسنز، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور ترقی پسند طلبا تنظیموں کی حمایت حاصل تھی۔ مظاہرین نے کراچی یونیورسٹی سے لاپتہ ہونے والےدونوں طلبا کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے حکومتی اداروں کی جانب سے بلوچ طلبا کے اغوا کے خلاف سخت نعرے بازی کی۔
بلوچستان اسمبلی میں ختم نبوت کے عنوان سے نصاب تعلیم میں مضامین شامل کرنے کی قرار داد منظور
بلوچستان اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر بابرموسیٰ خیل کی زیر صدارت پونے دوگھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا ہے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں ختم نبوت کے عنوان سے نصاب تعلیم میں مضامین شامل کرنے کیسکیو کی جانب سے منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر و پی ٹی وی میں مقامی زبانوں کے ڈرامے ختم کرنے کیخلاف قرار داددیں پیش کی گئیں جن کو منظور کرلیا گیا.