اسلام آباد: حکومت نے اوگرا کی سمری مسترد کرتےہوئے آئندہ 15 روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی موجودہ قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
مانیٹرنگ ڈیسک | وقتِ اشاعت :
اسلام آباد: حکومت نے اوگرا کی سمری مسترد کرتےہوئے آئندہ 15 روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی موجودہ قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
ویب ڈیسک | وقتِ اشاعت :
اسلام آباد: سپریم کورٹ نے پاناما کیس کی سماعت کے لیے نیا لارجر بینچ تشکیل دے دیا ہے جس کی سربراہی جسٹس آصف سعید کھوسہ کریں گے۔
ویب ڈیسک | وقتِ اشاعت :
اسلام آباد: سپریم کورٹ کے جسٹس ثاقب نثار نے پاکستان کے 25 ویں چیف جسٹس کے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔
اسٹاف رپورٹر | وقتِ اشاعت :
کوئٹہ: محکمہ داخلہ وقبائلی امور بلوچستان کا کارنامہ،محکمہ تعمیرات و مواصلات بلوچستان کے 75 سالہ ریٹائرڈ سرکاری ملازم کا نام فورتھ شیڈول میں شامل کردیا۔ محمد جان 1965کی جنگ میں جانباز فورس کا حصہ رہے جبکہ1983سے 1988ء تک نیشنل گارڈ میں بطور کیپٹن بھی نوجوانوں کو فوجی تربیت دی۔
ویب ڈیسک | وقتِ اشاعت :
کوئٹہ: صوبائی مشیر اطلاعات و انفارمیشن ٹیکنالوجی سردار رضا محمد بڑیچ سے پی ٹی سی ایل کے جنرل منیجر ظاہر اچکزئی نے ملاقات کی ۔ اس موقع پر صوبائی مشیر کو بریفنگ دیتے ہوئے جی ایم ( پی ٹی سی ایل) بتایا کہ کوئٹہ شہر میں پی ٹی سی ایل کے نئے
نیوز ایجنسی | وقتِ اشاعت :
کوئٹہ: پاکستان تحریک انصاف بلوچستان کے صدرسرداریار محمد رند نے سی پیک منصوبوں میں صوبے کے اہم زرعی منصوبے کچھی کینال کو شامل نہ کرنے پر صوبائی حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کچھی کینال دنیا کے کامیاب ترین قابل عمل منصوبوں کی
نمائند ہ خصوصی | وقتِ اشاعت :
خضدار : قومی شاہراہ پر تیز رفتار کا ر الٹنے سے دو افراد جاں بحق تین خواتین سمیت چار افراد زخمی ہوگئے قومی شاہراہ پر پیر عمر کے قریب کراچی سے سوراب آنے والی تیز رفتار کار موڑ کاٹتے
روزنامہ آزادی | وقتِ اشاعت :
اسلام آباد: وزیر داخلہ چوہدری نثار کا کہنا ہے کہ پاکستان میں صحیح کام کرنا مشکل اور ناممکن جب کہ غلط کام کرنا انتہائی آسان ہے۔
روزنامہ آزادی | وقتِ اشاعت :
کراچی: متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ فاروق ستار کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان سے متعلق کسی کو قیاس آرائیاں کرنے کی ضرورت نہیں کیوں کہ ہمیں تقسیم کرنے والوں کے فارمولے کو عوام نے مسترد کردیا۔
ویب ڈیسک | وقتِ اشاعت :
اسلام آباد: پاکستانی شہروں میں رہنے والی ملک کی 40 فیصد آبادی کو گرد کے ذرات اور حیاتیاتی نظام میں موجود پارے کا سامنا ہے جب کہ زیریں سندھ کے میدانوں میں پارے کی سب سے ذیادہ مقدار دیکھی گئی ہے۔