پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ عمران اور اس کی حکومت ہماری سیاسی بندوق کی نوک پر تھی جسے فائر کر کے ہمیں اس کا خاتمہ کرنا تھا لیکن ہم سب کے دباؤ کی وجہ سے، پارلیمان کے باہر جدوجہد اور ہم سب نے مل کر جو 3 ماہ کے لیے اس حکومت کا جینا حرام کر رکھا تحریک عدم اعتماد کے ذریعے تو حکومت نے خود بندوق اٹھا کر خود کشی کرلی۔
ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد مسترد کرنے کے بعد وزیراعظم کی تجویز پر صدر عارف علوی کے قومی اسمبلی تحلیل کرنے کے بعد ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال کی قانونی حیثیت پر سپریم کورٹ کا لارجر بینج آج سماعت کرے گا۔
اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے عام انتخابات کے اعلان پر حکومت مخالف متحدہ اپوزیشن جماعتوں کے ردعمل پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔ سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ عام انتخابات کےہمارے اعلان پر پی ڈی ایم کے ردِعمل پر حیران ہوں،
اسلام آباد: سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے قومی اسمبلی تحلیل کرنے کے صدارتی حکم اور اسپیکر کی ’متنازع‘ رولنگ کے پیش نظر ازخود نوٹس کی سماعت میں ریمارکس دیے کہ اقدامات کیے جا چکے ہیں ابھی حکم امتناعی نہیں دے سکتے۔
وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جب ملک کی اعلیٰ سطح کی سیکیورٹی باڈی بیرونی سازش کی تصدیق کر دیتی ہے تو پھر اس کے بعد نمبر گیم اور تحریک عدم اعتماد پر کارروائی بے معنیٰ تھی۔
وزیر اعظم عمران خان نے پارٹی رہنماؤں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کل جب میں شام کو آیا تھا تو مجھے آپ کو کہنا پڑا تھا کہ ’گھبرانا نہیں ہے‘، اب میں آپ کو تفصیل سے سمجھانا چاہتا ہوں کہ آج ہوا کیا ہے کیونکہ اپوزیشن کو تو ابھی تک سمجھ نہیں آرہی کے یہ ہوا کیا ہے؟
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی نے واضح طور پر کہا تھا کہ اس خط میں بیرونی سازش ہے، جو پیغام ہمارے سفیر کو دیا گیا وہ کمیٹی کے اجلاس میں زیر بحث آیا۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کو ’سازش‘ کا علم تھا تو پہلے واویلا کرنا چاہیے تھا، شہباز شریف
تحریر جاری ہے
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ہمارے سارے سیکیورٹی چیفس سمیت سب بیٹھے ہوئے تھے، وہاں ان کے سامنے امریکا میں پاکستان کے سفیر اور امریکا کی جانب سے ان کے نمائندے کے آفیشل میٹنگ کی تفصیلات شیئر کی گئیں، اس گفتگو میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ یہ پلان باہر سے بنا تھا جس کے تحت پاکستان کی اندرونی سیاست میں مداخلت کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں جو لوگ چھوڑ کر گئے اور لوٹا ہوئے ان سے سفارتخانے کے لوگ ملتے تھے، ان کا کیا کام تھا؟ اس سب کا تعلق تحریک عدم اعتماد سے تھا۔
عمران خان نے کہا کہ جب ملک کی اعلیٰ سطح کی سیکیورٹی باڈی یہ تصدیق کر دیتی ہے تو پھر اس کے بعد نمبر گیم اور تحریک عدم اعتماد پر کارروائی بے معنیٰ تھی۔
مزید پڑھیں: سڑکوں پر نکل کر سازش کے خلاف احتجاج کریں، وزیراعظم کی نوجوانوں سے اپیل
ان کا کہنا تھا کہ میں آپ کو یہ باتیں کل رات بتا نہیں سکتا تھا کیونکہ اگر میں کل سب کو بتا دیتا تو وہ آج صدمے میں نہ ہوتے۔
خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن نے 8 مارچ کو تحریک عدم اعتماد جمع کرائی تھی جس پر آج ووٹنگ متوقع تھی۔
تاہم اجلاس شروع ہوتے ہی وقفہ سوالات میں بات کرتے ہوئے وزیر قانون فواد چوہدری کی جانب سے قرارداد پر سنگین اعتراضات اٹھائے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: اتوار کو عدم اعتماد پر جو بھی فیصلہ ہوگا مزید تگڑا ہو کر سامنے آؤں گا، وزیر اعظم
اس کے بعد ڈپٹی اسپیکر نے عدم اعتماد کی تحریک کو آئین و قانون کے منافی قراد دیتے ہوئے مسترد کردیا اور اجلاس غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کردیا۔
ایوانِ زیریں کا اجلاس ختم ہونے کے فوراً بعد وزیراعظم نے قوم سے مختصر خطاب کیا اور اعلان کیا کہ اسمبلیاں تحلیل کرنے کی تجویز صدر مملکت کو بھجوا دی ہے۔
بعد ازاں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے وزیر اعظم عمران خان کی تجویز پر قومی اسمبلی تحلیل کردی۔
ڈپٹی اٹارنی جنرل راجا خالد محمود خان نے تحریک عدم اعتماد کے خلاف کے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا۔