ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان نے وزیر اعلیٰ عبدالقدوس بزنجو سے آج مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہونے کی صورت میں کل سے ایمرجنسی سروسز سے دستبردار ہونے اور کوئٹہ کے ریڈ زون میں دھرنا دینے اعلان کردیاہے۔ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے رہنما ڈاکٹر حنیف لونی نے سول اسپتال کوئٹہ میں پریس کانفرنس میں یہ اعلان کیا۔ڈاکٹر حنیف لونی نے کہا کہ ہمارے تین بڑے مطالبات ہیں جن میں محکمہ صحت کی پالیسی، سروس اسٹرکچر اور اسپتالوں میں طبی سہولیات کی فراہمی شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت اور وزیراعلیٰ مذاکرات میں سنجیدہ نہیں ہیں، ہمارے گرفتار ڈاکٹرز دس روز سے جیل میں ہیں مگر ہم نے عوام کی مشکلات کومدنظر رکھتے ہوئے انتہائی قدم نہیں اٹھایا ۔
اپوزیشن جماعتوں نے ایک بار پھرمارچ کرنے کافیصلہ کرلیا اور اس باراس کا نام مہنگائی مارچ رکھا گیا ہے۔ یقینا ملک میں مہنگائی بہت زیادہ ہے اور عوام کا غصہ بھی بہت زیادہ ہے مگر یہ مارچ کس قدر سنجیدگی کے ساتھ کیاجائے گا یہ بہت بڑا سوال ہے کیونکہ ماضی میں مولانافضل الرحمان اپنی جماعت کے ساتھ اسلام آباد میں تھے جبکہ اپوزیشن جماعتوں کے قائدین نے کوئی اہمیت اس دھرنے کو نہیں دی۔ بعدازاں مولانا فضل الرحمان نے دھرنا ختم کردیااور اب پیپلزپارٹی ٹرننگ پوائنٹ پر آگئی ہے
ملک میں بحرانات کا سلسلہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا، آئے روز ایک بُری خبر عوام کے لیے ہوتی ہے، نہ چاہتے ہوئے بھی اس طرح کی خبریں شہ سرخیوں کی زینت بن ہی جاتی ہیں کیونکہ گورننس جب بہتر نہیں ہوگا اور بحرانات پر قابوپانے کیلئے ٹھوس حکمت عملی واضح نظر نہیںآئے گی تو یقینا حکومتی کارکردگی پر سوالات ضرور اٹھائے جائینگے جس پر توجہ دینے کے حوالے سے بارہا کہاگیا مگر افسوس کہ اس پر توجہ دی جائے سنی کو اَن سنی کرکے یہ تسلیاں دی جارہی ہیں کہ صرف چھ مہینے عوام کو برداشت کرنا پڑے گا، گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے اس کے بعد ملک سے مہنگائی کا خاتمہ ضرور ہوگا لیکن صاف نظر آرہا ہے کہ مہنگائی کے خاتمے کے آثار دور دور تک دکھائی نہیں دے رہے ۔
گوادر میں جاری دھرنے سے شہرت پانے والے جماعت اسلامی کے رہنماء ہدایت الرحمان میڈیا کی زینت بن چکے ہیں جو پہلے اتنے مقبول نہیں تھے مگر مولاناہدایت الرحمان نے گوادر کے مسائل بھرپور انداز میں سیکیورٹی اداروں کے سامنے رکھا اور مختلف احتجاجی مظاہروں کی قیادت کرتے ہوئے سخت گیرموقف اپنایا تو گوادر اور مکران کے عوام کی بڑی تعدادمولاناہدایت الرحمان کی قیادت میں یکجا ہوگئی۔
گوادر کے لوگ گزشتہ کئی سالوں سے غیرقانونی ٹرالنگ سمیت دیگر مسائل پر سراپااحتجاج ہیں خاص کر ماہی گیر طبقہ تو غیر قانونی ٹرالنگ کی وجہ سے فاقہ کشی پر مجبور ہوکر رہ گیا ہے ،اوپر سے دیگر مسائل ان کے لیے کھڑے کردیئے گئے ہیں بجائے یہ کہ گوادر کے عوام کو بہترین سہولیات فراہم کیے جاتے، ان کے روزگار کو تحفظ فراہم کیاجاتا اور درپیش مسائل کو حل کیاجاتا مزید ان کے لیے مشکلات پیدا کرنا افسوسناک ہے۔ گوادر سی پیک کا جھومر ہے پہلے بھی اس کا تذکرہ کیاجاچکا ہے کہ سی پیک منصوبوں کے ذریعے سب سے پہلے گوادر اور پھر بلوچستان کے دیگر اضلاع کو فائدہ ملنا چاہئے مگر کئی برس گزر گئے بلوچستان کے حصے میں کچھ نہیں آیا ۔اس سے قبل جو چلنے والے میگا منصوبے ہیں ان میں بھی بلوچستان کے لوگوں کو کچھ نہیں دیا گیا
سیالکوٹ میں 3 دسمبر کو اسپورٹس گارمنٹ کی فیکٹری کے غیر مسلم سری لنکن منیجر پریانتھا کمارا پر فیکٹری ورکرز نے مذہبی پوسٹر اتارنے کا الزام لگا کر حملہ کردیا، پریانتھا کمارا جان بچانے کیلئے بالائی منزل پر بھاگے لیکن فیکٹری ورکرز نے پیچھا کیا اور چھت پر گھیر لیا۔انسانیت سوز خونی کھیل کو فیکٹری گارڈز روکنے میں ناکام رہے، فیکٹری ورکرز منیجر کو مارتے ہوئے نیچے لائے، مار مار کر جان سے ہی مار دیا، اسی پر بس نہ کیا، لاش کو گھسیٹ کر فیکٹری سے باہر چوک پر لے گئے، ڈنڈے مارے، لاتیں ماریں اور پھر آگ لگا دی۔پاکستان میں یہ انتہائی المناک واقعہ رونما ہوا ہے جس کی ہر سطح پر مذمت کی جارہی ہے۔ اس واقعے نے ایک المیہ پیدا کردیا ہے کہ آج ہمارا معاشرہ کس قدر وحشت اور درندگی کی طرف جارہاہے کہ ایک انسان کو مارپیٹ کر ،پھر زندہ جلاکر اس کی ویڈیوزاور سیلفیاں لیتے رہے ۔
ملک میں معاشی بحران ہر دن گمبھیرہوتا جارہا ہے اور اس وقت موجودہ حکومت کو سب سے بڑا چیلنج اور مشکل کا سامنا صرف مہنگائی کے حوالے سے ہے، اول روز سے ہی معاشی معاملات کو درست سمت نہ دینے کی وجہ سے حکومت کی مشکلات بڑھتی گئیں اور اب بڑے بحران کی صورت میں سامنے ہیں جس سے ہر طبقہ بری طرح متاثر ہوکر رہ گیا ہے۔ مہنگائی کی جوشرح ریکارڈ کی جارہی ہے اس سے رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں، عام آدمی کی آمدن سے کئی گنا زیادہ مہنگائی ہوچکی ہے اب مڈل کلاس بھی سفید پوش بن کر رہ گیا ہے صرف دو کلاس اس وقت ملک میںرہ گئے ہیں ایک اپرجبکہ دوسرا نچلا طبقہ ہے ۔اس سے مہنگائی اور معاشی صورتحال کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کس طرح سے لوگوں کی زندگی مشکل میں پڑگئی ہے اور عوام کا شدید غصہ حکومتی ناقص معاشی منصوبہ بندی پر ہے۔
سابق وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کے دور میں وفاقی حکومت کی جانب سے صوبائی حکومت کے ساتھ ہر سطح پر نہ صرف تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی تھی بلکہ بڑے بڑے منصوبوں کی تکمیل اور آغاز کی بات کی گئی تھی جس میں سی پیک اور جنوبی بلوچستان خاص کر شامل ہیں۔ بہرحال سی پیک منصوبہ بہت دیرینہ ہے اس حوالے سے مختلف حکومتوں نے بلوچستان کی عوام سے بڑے وعدے وعید کئے مگر زمینی حقائق خود حکام ہی دیکھ لیں کہ اب تک سی پیک سے بلوچستان کو کتنا فائدہ پہنچا ہے اور کتنے بڑے منصوبوں سے عوام کو براہ راست روز گار ملا ہے۔ صنعتیں ،بجلی گھر کے منصوبوں سمیت شاہراہوں کی تکمیل کس حد تک ہوچکی ہے۔
ملک میں مہنگائی 21 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ وفاقی ادارہ شماریات نے اپنی رپورٹ میںبتایا کہ ماہ اکتوبر میں مہنگائی کی شرح 9.2 فیصد تھی جب کہ گزشتہ سال نومبر میں مہنگائی کی شرح 8.3 فیصد تھی۔وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق شہروں میں مہنگائی کی شرح 12 فیصد اور دیہاتوں میں مہنگائی کی شرح 10.9 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کے اعشاریے 18.1 فیصد تک پہنچ گئے ہیں جب کہ ہول سیل پرائس انڈیکٹر کی مہنگائی 27 فیصد تک ریکارڈ کی گئی ہے۔وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران گھی کی قیمت میں 58.29 فیصد اضافہ ہوا ہے جب کہ خوردنی تیل کی قیمت 53.59 فیصد بڑھی ہے۔
بلوچستان کے مکران ڈویژن میں اس وقت عوام سب سے زیادہ سراپااحتجاج ہیں ،خاص کر ساحلی پٹی پر غیر قانونی ٹرالنگ اور سرحد پر ٹوکن سسٹم کے حوالے سے شدیداحتجاج کیاجارہا ہے، مکران کے لوگوں کا ذریعہ معاش سرحدی تجارت سے جڑا ہوا ہے پہلے اس کی بندش سے تاجرسمیت ہر طبقہ شدید متاثر تھا پھرٹوکن سسٹم نے مزید الجھائو پیدا کردیا جس پر تاجر، ڈرائیورز جو سرحد پر کاروبار کرتے ہیں عدم اطمینان کا اظہار کیا اور یہ بات سامنے آئی کہ منظور نظر افراد کو ٹوکن سسٹم سے نوازا جارہا ہے جبکہ بیشتر افراد شدیدمتاثر ہوکر رہ گئے ہیں۔بہرحال اب اس مسئلے کو وزیراعلیٰ بلوچستان نے حل کرنے کی یقین دہانی کرادی ہے اور اس پر تاجر سمیت ہرطبقہ مطمئن دکھائی دے رہا ہے۔