اپوزیشن سیاسی جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم نے مہنگائی کے خلاف سڑکوں پر نکلنے کا فیصلہ کر لیا۔پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کا اجلاس سربراہ مولانا فضل الرحمان کی زیرصدارت ہوا۔ اجلاس میں مہنگائی سمیت موجوہ حالات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پی ڈی ایم نے مہنگائی کے خلاف سڑکوں پر نکلنے کا فیصلہ کیا اور صوبوں میں مہنگائی مارچ کے بعد اختتام لانگ مارچ کی صورت میں ہو گا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مہنگائی مارچ لاہور، کراچی، کوئٹہ اور پشاور میں ہو گا۔اجلاس میں پارلیمنٹ میں نیب ترمیمی آرڈیننس کی منظوری روکنے پر اتفاق ہوا جبکہ حکومتی اراکین پارلیمنٹ اور حکومتی اتحادیوں سے بھی رابطے کا فیصلہ کیا گیا۔
وفاقی حکومت نے پیٹرول کا ایک اور زور دار دھماکہ کرکے وزیراعظم کے ریلیف پیکج کے دعوؤں کی نفی کردی، جس تیزی کے ساتھ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے ملکی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ آج ملک بھر میں مہنگائی کی سطح آسمان تک پہنچ گئی ہے عوام کے لیے اب کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی قوت خریدمیں ہو۔ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کر دیا۔اس ضمن میں جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی قیمت میں 8 روپے 3 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد اس کی نئی قیمت 145 روپے 82 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 8 روپے 14 پیسے اضافہ کیاگیا ہے جس کے بعد نئی قیمت 142 روپے 62 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔لائٹ اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے 72 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد اس کی نئی قیمت 114 روپے 7 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت میں 6 روپے 27 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا۔مٹی کے تیل کی نئی قیمت 116 روپے 27 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔تمام تر حکومتی اقدامات کے باوجود ملک میں چینی کی قیمت میں مسلسل اضافے کا سلسلہ جاری ہے۔
ممالک کی ترقی میں کلیدی کردار حقیقی جمہوریت اور قانون کی بالادستی کا ہوتا ہے جس میں جمہور کی رائے انتہائی اہمیت رکھتی ہے پارلیمان تک پہنچنے والے نمائندگان ریاست اور عوام کے مفادات کے وسیع ترمفاد میں قانون سازی کرتے ہیں تاکہ ملک اور عوام کا مستقبل تابناک ہوسکے ۔ معاشی، سماجی تبدیلی سے براہ راست عوام الناس فائدہ اٹھاتے ہیں اور پارلیمان ہی واحد مقدس ایوان ہوتا ہے جس میں تمام تر قانون سازی کی جاتی ہے اگر کوئی بھی فرد ملک اور عوام کے مفادات کو ذاتی مفادات کی غرض سے نقصان پہنچاتا ہے تو اسے سخت قوانین کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اس کا سیاسی مستقبل مکمل طور پر تاریک ہوکر رہ جاتا ہے۔
ملک میں جب بھی حالات سنگین ہوتے ہیں تو اس دوران میڈیا خود اپنے تئیں ایڈیٹوریل پالیسی کے حوالے سے ردوبدل کرتی ہے اور اس میں خاص کوشش یہ کی جاتی ہے کہ انتشار اور افراتفری کو ہوا نہ دی جائے بلکہ مثبت انداز میں جو کچھ ہورہا ہے اسے سامنے لایا جائے تاکہ کسی طر ح بھی عوام ذہنی کوفت میں مبتلا نہ ہوجائیں یا پھر فریقین کے درمیان کسی طرح کی انتشاری کیفیت پیدا نہ ہوجائے ۔ گوکہ میڈیا پر قدغن ہر دور میں لگایاگیا ہے مگر اس کی وجوہات میں انتشار افراتفری، بلاجواز پروپیگنڈا شامل ہی نہیں رہا ہے بلکہ غیرجانبدارانہ صحافت کا عنصر ہی حکمرانوں پر حاوی رہا ہے جس کی وجہ سے ناخوش رہتے ہوئے مختلف طریقوں اور حربوں کے ذریعے میڈیا کی آواز دبانے کی کوششیں کی گئیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں چینی کی قیمت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ادارہ شماریات نے مختلف شہروں میں چینی کی قیمتِ فروخت کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔پاکستان کے مختلف شہروں میں چینی 120 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہی ہے، شہری سرکاری ریٹیل قیمت سے 25 سے 30 روپے فی کلو تک مہنگی چینی خریدنے پر مجبور ہیں۔حکومت کی جانب سے مقرر کردہ چینی کی ریٹیل قیمت 89 روپے 75 پیسے ہے لیکن اوپن مارکیٹ میں چینی 120 روپے فی کلو تک فروخت کی جا رہی ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو دوسری بار بلوچستان کے وزیراعلیٰ کے منصب پر فائز ہوچکے ہیں ، میرعبدالقدوس بزنجو کے متعلق یہ بات زبان زدعام ہے کہ وہ سب کو ساتھ لیکر چلنے کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں جب 2018ء کے اواخر میں وہ چند ماہ تک وزیراعلیٰ بلوچستان کے فرائض سرانجام دیئے تھے تو اس دوران انہوں نے حکومت اوراپوزیشن ارکان دونوں کو برابری کی بنیاد پرترجیح دی تھی فنڈز اور اسکیمات کے معاملے پر کسی طرح کے اعتراضات نہیں اٹھائے گئے تھے ۔
امریکہ کی جانب سے افغانستان میں طالبان حکومت کو فی الحال کوئی خاص اہمیت نہیں دی جارہی اور نہ ہی امریکی اتحادی اس حوالے سے کوئی خاص دلچسپی لے رہے ہیں چونکہ انخلاء کے اول روز سے ہی امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے یہی مؤقف سامنے آیا ہے کہ ان کی نظریں افغانستان پر لگی ہوئی ہیں کہ مستقبل میں وہاں کس طرز پر طالبان اپنی پالیسی مرتب کریں گے جس کے بعد یہ طے کیاجائے گا کہ افغان حکومت کے ساتھ روابط کس بنیاد اور طریقے کار کے ذریعے رکھے جائیں گے ۔اب حال ہی میںامریکہ کی جانب سے افغانستان کے لیے رقم جو امداد کی صورت میں دینے کا اعلان کیاگیا اس میں بھی آزادتنظیموں کی مدد لی جائے گی افغان حکومت کو براہ راست یہ رقم نہیں دی جائے گی۔
میرعبدالقدوس بزنجو بلوچستان اسمبلی میں بلا مقابلہ نئے قائد ایوان منتخب ہو گئے۔ڈپٹی اسپیکرسرداربابر موسیٰ خیل کی زیرصدارت بلوچستان اسمبلی کا اجلاس ہوا۔ بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار کے مقابلے میں کسی نے کاغذات جمع نہیں کرائے۔عبدالقدوس بزنجو کو39 ووٹ ملے۔بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنماء جام کمال نے اپنی ہی جماعت کے باغی اراکین کی جانب سے تحریک عدم اعتماد پر اسمبلی میں ہونے والی رائے شماری سے ایک روز قبل ہی وزارت اعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا جس کے بعد بی اے پی نے نئے وزیراعلیٰ کے لیے عبدالقدوس بزنجو کو نامزد کیا تھا۔سال2018 کے عام انتخابات میں عبدالقدوس بزنجو آواران سے بلوچستان عوامی پارٹی کی ٹکٹ پر منتخب ہوئے۔ انہیں اسپیکربلوچستان اسمبلی کے عہدے کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔
پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز میں کمی کے بعداس کے واضح اثرات سامنے آرہے ہیں ،ملک بھر میں کاروبار سے لے کر تعلیمی سرگرمیوں تک بحال ہوچکی ہیں عوام جو پہلے خوف میں مبتلاہوکر زندگی گزار رہے تھے اب بلاجھجھک زندگی رواں دواں ہے جوکہ ایک انتہائی اچھی بات ہے۔ پاکستان میں کورونا سے مزید 13 افراد جان کی بازی ہار گئے اور 516 نئے کیسز بھی رپورٹ ہوئے۔ ملک بھر میں کورونا کے 38430 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 516 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی جبکہ وائرس سے 13 ہلاکتیں ہوئیں۔سرکاری اعداد وشمارکے مطابق ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے مثبت کیسز کی شرح 1.34 فیصد رہی۔سرکاری پورٹل کے مطابق ملک میں کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد 28405 ہو گئی اور مجموعی کیسز 12 لاکھ 70 ہزار 322 تک جا پہنچے ہیں جبکہ فعال کیسز کی تعداد 23982 ہے۔اس کے علاوہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 717 مریض کورونا سے صحت یاب بھی ہوئے ہیں جس کے بعد مجموعی طور پر صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 12 لاکھ 17 ہزار 935 ہو گئی ہے۔
ملک میں گزشتہ تین سالوں سے عوام کسی اچھی خبرکے منتظر ہیں کہ حکومتی سطح پر انہیں کوئی خوشخبری مل جائے جس کا براہ راست تعلق ان کی زندگی میں بڑی معاشی تبدیلی سے ہو مگر شومئی قسمت آئے روز ایک نیا پہاڑ عوام پر گرادیاجاتا ہے جس میں مہنگائی سرفہرست ہے ۔عوام کیلئے سیاسی کھینچا تانی کشیدگی قابل برداشت ہوسکتی ہے کیونکہ ستر سالوں کے دوران ملک میں بڑے سیاسی اتار چڑھاؤ آج تک لوگ دیکھتے آئے ہیں اور اس عمل کے عادی بھی ہوچکے ہیں کہ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف کسی بھی حد تک جاسکتی ہیں یہاں تک کہ جمہوریت کا راگ الاپتے نہ تھکنے والی سیاسی جماعتوں نے نظام کو اس قدر مفلوج بناکر رکھ دیا ہے کہ پارلیمان کا تقدس اوراہمیت عوام میں اب وہ نہیں رہی جس سے کبھی توقعات وامیدیں وابستہ رکھے ہوئے تھے۔