استاد ستّار بلوچ:بلوچی موسیقی کا انقلابی کردار

| وقتِ اشاعت :  


اْستاد عبدالستّار بلوچ کا شمارجدید بلوچی موسیقی کے بانیوں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے نامور بلوچ میوزیشن اْستاد نظر محمدنسکندی سے ہندی کلاسیکل موسیقی کی تعلیم حاصل کر کے ایک ایسے دور میں بلوچی موسیقی اور گائیکی کو اپنایا جب بلوچ اپنی قومی موسیقی اور شاعری سے بیگانہ تھے۔



عہدِ تلاطم میں عزت کا معمار خامنہ ایؒ

| وقتِ اشاعت :  


امتِ اسلامی کے بصیر پیشوا، شہیدِ راہِ قدس، حضرت آیت اللہ خامنہ ای (قدس اللہ نفسہ الزکیہ) کی ملکوتی عروج اور مجاہدانہ شہادت کو چالیس دن گزر چکے ہیں۔ ان ایام میں جب ان کی ہجرتِ سرخ کی خوشبو پوری اسلامی دنیا میں پھیلی ہوئی ہے، پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے مومنین کے دل بھی امتِ مسلمہ کے عالمی سوگ کے ساتھ ہم نوا ہو کر اس جانسوز فراق میں تڑپ رہے ہیں۔ لیکن اس تاریخی موڑ پر جو چیز جذباتی پہلوؤں سے بالاتر ہو کر ضروری ہے، وہ ان کی “قائدانہ شخصیت” کی دقیق وضاحت اور تبیین ہے؛ ایک ایسی قیادت جو ایک روایتی سیاسی عہدے سے کہیں بلند، عصرِ حاضر کے ایک “حکیمِ الٰہی” اور عظیم اسٹریٹجسٹ کی تھی، جنہوں نے اس پرآشوب دور میں اسلامی عزت کی نئی بنیادیں رکھیں۔ بلوچستان پاکستان کے دانشوروں، نخبگان اور بالخصوص پرجوش نوجوانوں کے لیے اس عظیم شہید کی سیرت اور مکتب کا تجزیہ چند کلیدی پہلوؤں میں کیا جا سکتا ہے۔



پیٹرولیم پر کنٹرول: نئی عالمی طاقت

| وقتِ اشاعت :  


ہر انسان کو توانائی کی ضرورت ہوتی ہے، مگر توانائی کے ذرائع محدود ہیں، جس کی وجہ سے طاقت چند ہاتھوں میں مرکوز ہو جاتی ہے دنیا کے تقریباً دو تہائی تیل کا حصول مشرقِ وسطیٰ سے ہوتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ باقی دنیا اس خطے پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے کئی… Read more »



مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کی تبدیلی: ایران–اسرائیل کشیدگی کے عالمی اثرات

| وقتِ اشاعت :  


جغرافیائی سیاست میں وقت اکثر سب سے اہم عنصر ہوتا ہے جب میزائل آسمانوں میں اڑ رہے ہوں اور اتحاد مضبوط ہو رہے ہوں تو ہر مصافحہ، ہر دورہ اور ہر بیان کو انتہائی غور سے دیکھا جاتا ہے۔ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان حالیہ تصادم محض مشرقِ وسطیٰ کا ایک اور تنازعہ نہیں… Read more »



سی پیک، گوادر اور بلوچستان: بلیو اکانومی کے ذریعے معاشی استحکام

| وقتِ اشاعت :  


پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ بلوچستان ملک کا ایک پسماندہ خطہ ہے یہ پاکستان کے کل رقبے کا تقریباً 44 فیصد حصے پر مشتمل ہے اور ملک کی سب سے طویل ساحلی پٹی رکھتا ہے بلوچستان کی عرب سمندر کے ساتھ تقریباً 750 سے 760 کلومیٹر طویل ساحلی لائن ہے، جو اسے بلیو اکانومی (سمندری معیشت) کی ترقی کے لیے ایک نہایت اہم مقام بناتی ہے۔ تاریخی طور پر بلوچستان کو ترقی کے میدان میں بہت کم توجہ دی گئی، لیکن حالیہ برسوں میں چین-پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کی بدولت ساحلی بلوچستان کی جغرافیائی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے، جو اسے ایک بڑے علاقائی تجارتی اور رابطہ جاتی مرکز کے طور پر ابھار رہی ہے اور بلیو اکانومی کے فروغ کے مواقع فراہم کر رہی ہے صوبہ بلوچستان قدرتی اور معدنی وسائل سے مالا مال ہے جن میں سونا، تانبا، کوئلہ، لوہے کی کانیں، سیسہ، شیل گیس، کروم اور اینٹیمونی شامل ہیں۔



بلوچستان میں اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے تاریخی اقدام

| وقتِ اشاعت :  


محکمہ اقلیتی امور حکومت بلوچستان کی جانب سےصوبے کے تمام اقلیتی ملازمین کے لئے اچھی خبر یہ ہے کہ اقلیتی ملازمین کیلئے ان کے مذہبی تہوار کے موقع پر انہیں تین دن کی چھٹی ملے گی،،،،،محکمہ نے اس بڑے اقدام کا باضابطہ نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا ہے، جس کے مطابق بلوچستان میں بسنے والے… Read more »



بلوچستان اور فزیوتھراپی: ایک نظرانداز شدہ حقیقت

| وقتِ اشاعت :  


کسی بھی معاشرے کی روشن مستقبل اور ملک و ریاست کے ترقی و خوشحالی کیلئے مملکت کی صحت اولین ترجیح ہوتی ہیں۔ حقیقی اور عوام دوست حکمران عوام کی صحت کے معاملے میں انتہائی حساس ہوتے ہیں جو اپنے ملک میں صحت کے لیے تمام اقدامات اٹھاتے ہیں، پولیو اور 2019 میں کرونا وائرس ہمیں… Read more »



ایران میں ہنگاموں کے پس پردہ محرکات

| وقتِ اشاعت :  


گزشتہ ہفتے اسلامی جمہوریہ ایران میں ایسے واقعات اور خلفشار دیکھنے میں آیا ،جس نے انقلاب اسلامی کے دوستوں اور دشمنوں، دونوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی اور عصر حاضر میں ایک بار پھر حق و باطل کے تصادم کا منظر دنیا کیلئے عیاں ہوا۔ تقریباً دو ہفتے قبل اسلامی جمہوریہ ایران کے زرمبادلہ… Read more »



امان اللہ ساجد: ایک تعلیمی و علمی سفر سے سروسز ریٹائرمنٹ تک (1991-2025)

| وقتِ اشاعت :  


پروفیسر امان اللہ بلوچ، جنہیں امان اللہ ساجد کے قلمی نام سے بھی جانا جاتا ہے، ایک معروف تعلیمی و سماجی شخصیت ہیں جنہوں نے اپنی تعلیمی قابلیت، پیشہ ورانہ خدمات، اور ادبی کارناموں سے اپنے آپ کو ممتاز کیا ہے۔ وہ ایک محنتی، ذہین، اور علم دوست شخصیت ہیں، جنہوں نے اپنی زندگی کو تعلیم، سماجی خدمت، اور ادب کے لیے وقف کر دیا ہے۔ ان کی شخصیت میں ایک الگ، باکمال، پراثر اور انوکھا صلاحیت وجود پذیر ہے جو حقیقی طور پر لوگوں کو اپنی طرف متوجہ اور متاثر کرتا ہے، اور ان کی خدمات بلوچستان کی تاریخ میں ایک کلیدی مقام رکھتی ہیں۔



الوداع “ماما” الوداع!

| وقتِ اشاعت :  


بلوچ سرزمین ایک بار پھر ایک عظیم بیٹے کو الوداع کہہ چکی ہے۔ وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے بانی رہنما، ماما قدیر بلوچ اب ہم میں نہیں رہے۔ ایک طویل، ثابت قدم اور بے مثال سیاسی جدوجہد کے بعد وہ اس دنیا سے رخصت ہوگئے، مگر اپنے پیچھے ایک ایسا مشن چھوڑ گئے ہیں جو ہر بلوچ فرزند کے لیے ایک امانت کی حیثیت رکھتا ہے۔