|

وقتِ اشاعت :   September 25 – 2018

پشین  جمعیت علماء اسلام کے رہنما و رکن صوبائی اسمبلی سید فضل آغا ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ سے متعلق اجلاس میں غیر معیاری نظام تعلیم کے حوالے جذبات پر قابو نہ پاتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے ۔

انہوں نے کہا کہ خدا کو حاضر و ناظر جان کر تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرنے ہونگے انہوں نے کہا کہ محکمہ ایجوکیشن ذمہ دار محکمہ ہے ڈسٹرکٹ کے بیشتر علاقوں میں گرلز سکولوں کا نام ونشان نہیں جبکہ کاغذات میں نام شامل ہے ۔

ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے بریفنگ بہتر انداز میں دی گئی لیکن حقیقت بریفنگ کے برعکس ہے ہمارا تعلق اسی ڈسٹرکٹ سے ہے اور ہم ہی انکے خیر خواہ ہیں معماران قوم کو تاریک میں دھکیلنے میں اساتذہ بھی شامل ہے کیونکہ ڈسٹرکٹ میں ایسے اساتذہ بھی ہے جو تنخواہیں لے رہے ہیں لیکن عرصہ دراز سے حاضریوں قاصر ہیں ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ سے متعلق کافی شکایات موصول ہوئی ہے بس بہت ہوگیا اب ایسا نہیں چلے گا ۔

تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کیلئے مزید اقدامات کرنے ہونگے ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈی سی ریسٹ ہاؤس پشین میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن کی ایک روزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سید کلیم اللہ شاہ نے ڈسٹرکٹ میں ایجوکیشن سے متعلق تفصیلی بریفنگ میں بتایا کہ سات سو کے قریب اساتذہ کی اسامیاں خالی ہیں ڈسٹرکٹ میں 116سکول بند پڑے ہیں جبکہ 136ٹیچرز غیر حاضر ہیں 216ایسے سکولز ہیں جس میں کمرے نہیں اور 632ایسے سکولز بھی جہاں پانی میسر نہیں ایسی طرح 458سکولز بھی جہاں واش رومز نہیں جبکہ 353سکولوں کی چار دیواری نہیں ہے اور 672سکولوں کو بجلی کی سہولت میسر نہیں ہے 224سکولوں میں تعمیراتی کام جاری ہے ۔رواں سال میں 16847 طلباء و طالبات کو داخلے دیئے گئے ہیں۔

عرصہ دراز سے27 غیر فعال سکولوں کو فعال کیا گیا ہے 6سکولوں کی اپ گریڈیشن ہوئی ہے ۔24نئے سکول بنائے گئے ہیں 9اساتذہ کو برخاست جبکہ 104کو معطل کیا گیا ہے ۔سائنس کے اساتذہ کی کمی ہے اور ڈسٹرکٹ کو 100سے زائد سائنس کے ٹیچرز درکار ہے ۔

اجلاس میں ڈائریکٹر سکینڈری سکولز بلوچستان سید محمد انور شاہ ،ایڈیشنل ڈائریکٹر محمد حنیف بنگلزئی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر لورالائی محمد عارف شاہ ڈویژنل ڈائریکٹر کوئٹہ ڈویژن محمد مطیب آفریدی ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر فیمیل عالیہ کاکڑاور محب ترین موجود تھے ۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علماء اسلام کے اراکین صوبائی اسمبلی سید فضل آغا ،عبدالواحد صدیقی اور حاجی اصغر خان ترین نے کہا کہ سیاسی دباؤ سے بالاتر ہوکر مثبت رزلٹ دینا ہوگا ہم ماضی کے اراکین اسمبلی میں سے نہیں آج کوئی یہ نہیں کہہ رہا کہ ماضی میں بہتر کام ہوئے ہیں سفارش کلچر محکموں کو تباہ کررہی ہے اساتذہ کو بھی کئی مسائل درپیش ہیں انکے حل کیلئے ماضی میں کسی عوامی نمائندوں نے توجہ نہیں دی سکولوں کے قریب رہائشی کوارٹرز ہونے چاہئے تاکہ بغیر کسی دشواری کے اساتذہ طلباء و طالبات کو بہتر نظام تعلیم فراہم کریں اخلاص سے کام کرنا ہونگے ۔

اٹیچمنٹ کا سلسلہ فوری طور پر ختم کرنا ہوگا محکمہ تعلیم میں بھرتیوں اور تعیناتیوں پر ہمیں کوئی سروکار نہیں ہم ایک نئی سوچ اور فکر کے ساتھ میدان میں اترے ہیں ہمیں کام چاہئے جب تک ہمارے درمیان روابط نہیں ہونگے معاملات ٹھیک نہیں ہونگے ڈسٹرکٹ پشین میں جو بھرتیاں ہوئی ہے اور ڈیوٹیاں کئی اور دے رہے ہیں یہ کرمینل کیسیز میں آتی ہے اس پر کوئی رعایت نہیں ہوگی محکمہ تعلیم سے متعلق ماہانہ اجلاس منعقد کیا جائیگا جس میں پچھلے ماہ کی کارکردگی رپورٹ پیش کرنا ہوگی پشین ڈسٹرکٹ ہمارا گھر ہے اسکے حالات کیسے بدلنے ہونگے ۔

اس کیلئے سوچنا ہوگا ہماری جماعت کے منتخب نمائندے محکمہ ایجوکیشن میں ہر گز مداخلت نہیں کرئیگی فرائض میں غفلت اور کوتاہی برداشت نہیں کریں گے جنکی جہاں پوسٹنگ ہے وہی اپنی حاضری کو یقینی بنائے جوسکول بند ہے انہیں جلد فعال فنکشنل کرایا جائے ہم نہیں کہتے کہ سکول بند رہے ’’سکول کھولے اور بچے تعلیم حاصل کریں‘‘ یہ ہماری خواہش ہے ۔سرکاری سکولوں کے ساتھ ساتھ نجی سکولوں پر نظرثانی کرتے ہوئے والٹی ایجوکیشن کو ترجیح دینی ہوگی سرکاری سکول بند جبکہ پرائیویٹ سکول کھلتے جارہے ہیں ۔

سرکاری تعلیمی اداروں کی نسبت نجی اسکولوں کو ترجیح دی جارہی ہے اسکی اہم وجہ سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی فقدان سمیت اساتذہ کی کمی ہے جبکہ دوسری طرف بھاری فیسوں کیوجہ سے غریب آدمی اپنے بچوں کو نجی اسکول داخل نہیں کرسکتا سرکاری اسکولوں میں کوالٹی ایجوکیشن نہ ہونے کے برابر ہے سیاسی مداخلت ماضی ہوئی ہوگی لیکن اب ایسا نہیں ہونے دیں گے ۔

بہتر طریقے سے فرائض انجام دینے والوں سے کیساتھ کوئی زیادتی نہیں ہوگی شکایات ملی ہے کہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفس (فیمیل) میں لوئر اسٹاف رشوت لیکر اساتذہ کی پوسٹنگ ،سروس بک بنانے،غیر حاضر اساتذہ سے آدھی تنخواہ لیکر انکی پشت پناہی کرتے ہیں متعلقہ آفس کے ہیڈ کو ان معمالات پر نظر رکھنی ہوگی ۔

آخر میں میجر (ر) ڈپٹی کمشنر اورنگزیب بادینی نے کہا کہ معیاری تعلیم پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے تمام محکموں میں سفارش ختم ہونی چاہئے ڈیوٹی میں غفلت کرنیوالے غیر حاضر اساتذہ کیخلاف بلا امتیاز کارروائی کریں گے شکایات ملی ہے کہ ای ڈی او فیمیل آفس میں کلرک اسٹاف رشوت جیسی لعنت میں مبتلا ہے ان کیخلاف جلد کارروائی ہوگی اسسٹنٹ کمشنروں کو ہدایات دی ہیں کہ وہ ہر ہفتے سکولوں کا دورہ کرکے ہر قسم کے دباؤ سے بالاتر ہوکر کارروائیاں کریں ہم سرکاری کام ہر حال میں جاری رکھیں گے ۔