بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل گروپ ) کے سربراہ سردار اختر مینگل کہتے ہیں کہ ہم بلز پر اتفاقِ رائے کی مشاورت میں شامل نہیں تھے۔
قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل گروپ ) کے سربراہ سردار اختر مینگل کا کہنا ہےکہ حکومت میں جب تھے تب بھی ہم سے مشاورت نہیں کی جاتی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے نۃ کبھی اندورنی یا بیرونی دباؤ پر سمجھوتہ کیا اور نہ کبھی کریں گے، بل میں دہشت گرد کی وضاحت ہونی چاہیے تھی۔
اختر مینگل نے مزید کہا کہ کیا ملک کے وزیرِ اعظم نواز شریف کو دہشت گرد قرار نہیں دیا گیا تھا؟ کیا راجہ پرویز اشرف کو بھی دہشت گرد قرار نہیں دیا گیا تھا؟
انہوں نے یہ بھی کہا کہ کھڑکی کا شیشہ توڑنے والا دہشت گرد ہوتا ہےلیکن آئین کو توڑنے والا دہشت گرد نہیں ہوتا، پہلے ملک کے آئین کو توڑنے والے کو دہشت گرد قرار دیں پھر ہم بل کا ساتھ دیں گے۔
J Tiger Mengal
مینگل گروپ جیسے الفاظ کا چناؤ کسی اور چیز کی عکاسی کررہا ہیں بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ لکھ سکتے ہیں بہرحال اپنے الفاظ کا چناؤ درست کرے شکریہ