چلو یہ مان لیتے ہیں کہ ہم شہر خموشاں کے مغربی حصے کے خاموش باسی ہیں۔ ہم بھی ملک کے دوسرے شہریوں کی طرح ہر پانچ سال بعد اپنا حق رائے دہی استعمال کرکے اپنے لئے نمائندے منتخب کرتے ہیں۔ چلو یہ بھی مان لیتے ہیں کہ روزگار سفارش کے تحت من پسند سیاسی حمایتیوں اور کارکنوں کا حق ہے۔ اور ہمیں یہ حق نہیں کہ ہم کسی منتخب نمائندے سے یہ سوال کریں؟ کہ ہمیں روزگار کیوں نہیں مل رہا ۔
مکران کے ساحلی علاقے ’’دران‘‘ جیوانی، ’’تاک‘‘ اورماڑہ اور پاکستان کے سب سے بڑا جزیرہ ’’اسٹولہ‘‘ کو گرین ٹرٹل کے لئے محفوظ علاقہ تصور کیا جاتا ہے۔ ماہرین حیاتیات کی نظر میں یہ علاقے آبادی سے دور ہونے کی وجہ سے سبز کچھوؤں کی افزائش نسل کے لئے محفوظ زون ہیں۔
بلوچستان کے دیگر حلقوں کی نسبت گوادر کی صوبائی اسمبلی کی نشست کو اس وجہ سے زیادہ اہم قرار دیا جارہا تھا کہ گوادر سی پیک اور پورٹ سٹی کا شہر ہے۔مقتدر حلقے گوادر کو پاکستان کی شہ رگ سمجھتے ہیں۔جہاں سی پیک پروجیکٹ کے تحت بلین ڈالرز پروجیکٹ کے معاہدوں پر دستخط کے بعد گوادر کے لئے تو کوئی بڑا پروجیکٹ نہیں نظر آرہا ہے۔مگر یہ ضرور کہا جارہا ہے کہ گوادر میں بڑے منصوبوں پر کام شروع ہوگا۔
پسنی : گوادرکے نومنتخب ایم پی اے میر حمل کلمتی کا نوری ہاؤس پسنی آمد، سینکڑوں افراد نے انکا اسقبال کیا۔ نوری ہاؤس پسنی میر حمل کلمتی اورسید معیار جان نوری کے حق میں فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھا۔
گوادر اور لسبیلہ کی قومی اور صوبائی نشست پر انتخابی اتحاد کے امیدواروں کی پوزیشن واضح ہونے لگی۔ حلقہ پی بی 51 گوادر سے اس وقت سابق ایم پی اے گوادر میر حمل کلمتی، سابق ایم این اے میر یعقوب بزنجو، آزاد امیدوار میر اویس جان ،نیشنل پارٹی کے اشرف حسین ،بی این پی عوامی کے حمید حاجی اور جماعت اسلامی کے سعید احمد الیکشن لڑرہے ہیں۔
گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی (جی ڈی اے) کاانوائرنمنٹ سیکٹر کا قیام شہر کے ترقیاتی منصوبوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ماحولیات کے تحفظ اور گوادر گرین سٹی کے خواب کو شرمندہ تعبیر بنانا ہے۔ جس کا مقصد شہر کی خوبصورتی اور مستقبل میں گوادر کو ماحولیات کے عین اصولوں کے مطابق گرین شہر بنانا ہے۔
یہ چھ فروری کا صبح تھا۔موبائیل آن کرنے کے بعد ایک درجن کے قریب وٹس ایپ گروپ سے آنے والے میسجز پر سرسری نگاہ دوڑاتا رہا۔ پہلی نظر ’’ساربان‘‘گروپ کے ایک میسج پر پڑا جہاں لالہ صدیق کے ناگہانی موت کی خبر دیکھ کر افسردگی ہوئی۔
بلوچستان رقبے کے لحاظ ملک کا آدھا حصہ ہے جبکہ آبادی کے لحاظ سے ملک کا سب سے چھوٹا صوبہ ہے۔قدرتی۔معدنی اور ساحلی وسائل سے مالا مال بلوچستان کو سیاسی حوالے سے بھی کافی اہمیت حاصل ہے۔