یاد رہے کہ سال 2020 میں ڈپٹی کمشنر ویسٹ کے دفتر کی جانب سے اخبارات میں ایک اشتہار شائع کیا گیا تھا، جس میں علی حسن بروہی (جو کہ علی حسن زہری بھی کہلاتے ہیں) کو مبینہ طور پر 3,000 ایکڑ سے زائد سرکاری زمین پر قبضے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔ اشتہار میں کہا گیا تھا کہ ان زمینوں کی مالیت اربوں روپے ہے اور علی حسن بروہی نے جعلی انٹریوں کے ذریعے سرکاری زمینوں پر قبضہ کیا۔