پانامہ کے بعد

| وقتِ اشاعت :  


پاناما واقعی اللہ کی طرف ایک ایسا گرفت ہے ، جس نے نہ صرف میاں نواز شریف کو وزارت عظمٰی کے لئے نااہل قرار دے دیا۔ بلکہ شریف خاندان کے خلاف یہ ایک ایسا مقدمہ ثابت ہوا جس نے ان کی سیاست کی کایا پلٹ دی۔



اقتدار کی جنگ

| وقتِ اشاعت :  


سپریم کورٹ کے فیصلہ کو دونوں طرح سے دیکھا جا سکتا ہے: اسے متوقع فیصلہ بھی کہا جا سکتا ہے اور غیر متوقع بھی۔ایک عام آدمی بھی سمجھ سکتا تھا کہ تمام تر شور شرابہ کے بعد بھی پاناما منی لانڈرنگ کیس سماعت کے لیے احتساب عدالت ہی کے حوالے کیا جائے گا۔



بلوچستان میں احساسِ محرومی نیا نہیں

| وقتِ اشاعت :  


محمد علی جناح کو بلوچستان سے خصوصی دلچسپی تھی اور اُنہوں نے اپنے مشہور 14 نقاط میں بھی خاص طور پر بلوچستان کا ذکر کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ بلوچستان کو ہندوستان کی دیگر ریاستوں کی طرح مساوی حیثیت دی جائے اور وہاں مناسب اصلاحات کا عمل شروع کیا جائے۔



این اے 260، مضبوط اتحاد کوشکست

| وقتِ اشاعت :  


این اے 260کے ضمنی انتخاب سے بلاشبہ یہ ثابت ہوچکا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی صوبے کی واحد مقبول سیاسی جماعت ہے، سیاسی منظرنامے میں اس جماعت کاکوئی ثانی نہیں ہے جب بی این پی نے قومی اسمبلی کی نشست کیلئے اپنی نمائندگی کااعلان کیا تو پارٹی کے مخالفین کی صفوں ،حکومتی اور سیاسی اتحادیوں میں ایک واضح بے چینی پائی جانے لگی ۔



بحرِ بلوچ اورماہی گیروں کے کھٹن شب و روز

| وقتِ اشاعت :  


بلوچستان کا 780 کلومیٹر طویل ساحل جیوانی سے لے کر گڈانی تک پھیلا ہوا ہے۔ اس ساحل سے ملحقہ سمندر کو پہلے بحرِ عرب کے نام سے پکارا جاتا تھا مگر موجودہ صوبائی حکومت نے بلوچستان اسمبلی میں متفقہ قرارداد منظور کر کے اس سمندر کو بحرِ بلوچ کے نام سے منسوب کر دیا۔



تربت میں موبائل انٹرنیٹ کی بندش سے پیدا ہونے والے مسائل

| وقتِ اشاعت :  


تعلیم کے میدان میں ضلع تربت کا مقام بلوچستان کے دیگر اضلاع کے مقابلے میں ہمیشہ آگے رہا ہے تربت کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہ بلوچستان کا سب سے اعتدال پسند علاقہ مانا جاتا ہے جہاں پر ہمیشہ بھائی چارگی کو فوقیت دی گئی ہے۔



گستاخی فرشتہ

| وقتِ اشاعت :  


2013ء کے انتخابات میں بلوچستان میں قوم پرستوں نے عجیب فسوں کاری دکھائی وہ قوم پرست جو پچھلے چالیس سال سے لبرل ازم ‘ ترقی پسندی ‘ اصلاح پسندی کا نعرہ بلند کرتے تھکتے نہیں تھے اچانک بلوچستان کے طول و عرض میں اہلسنت والجماعت ‘جمعیت علماء اور جماعت اسلامی سمیت ڈرگز مافیا اور ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں سے انصرام و انضباط کرنے سے نہیں چونکے اور اپنی دفاع میں سات آسمان ایک کیے ہوئے ہیں ۔



بلدیاتی اداروں کے لیے اچھی خبر

| وقتِ اشاعت :  


خیبر پختونخوا میں مقامی حکومتوں کے لیے اچھی خبر یہ ہے کہ پشاور ہائی کورٹ نے صوبائی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ تیل اور گیس پیدا کرنے والے ہر ضلع / تحصیل میں پیٹرولیم سوشل ڈیو یلپمنٹ کمیٹیاں قائم کرے۔



آزادی صحافت کے 17 سال

| وقتِ اشاعت :  


روزنامہ آزادی کے مدیر صدیق بلوچ کی ذاتی زندگی سے آشنا ہوئے بغیر ہم روزنامہ آزادی کو صحیح معنوں میں سمجھ نہیں سکیں گے اس لئے ضروری ہے کہ اس کی زندگی کے متعلق اہم معلومات سے آگاہ ہوسکیں۔