کوئٹہ کی وادی کا خیال آتے ہی ذہن میں انار،سیب،خوبانی کے باغات کا تصور آتا ہے،ریڑھ کی ہڈی میں ایک سرد سی سنساہٹ کا احساس ہوتا ہے،دیو ہیکل پہاڑوں کی گود میں سوئے اس شہر کو سات رنگوں میں گْندھے بلوچستان کا سب سے خوبصورت رنگ قرار دیا جا سکتا ہے۔
ظہیر ظرف | وقتِ اشاعت :
کوئٹہ کی وادی کا خیال آتے ہی ذہن میں انار،سیب،خوبانی کے باغات کا تصور آتا ہے،ریڑھ کی ہڈی میں ایک سرد سی سنساہٹ کا احساس ہوتا ہے،دیو ہیکل پہاڑوں کی گود میں سوئے اس شہر کو سات رنگوں میں گْندھے بلوچستان کا سب سے خوبصورت رنگ قرار دیا جا سکتا ہے۔
امجد بلیدی | وقتِ اشاعت :
کافی عرصے سے کتابوں سے دوری اور غم دوراں نے کچھ ایسے باندھ رکھا تھا کہ کچھ لکھتے ہوئے بھی نہ لکھنے کی سوچ مسلسل قلم سے دورکرنا چاہ رہی تھی۔ اس سوچ کو مات دینے کیلئے بارہا کوشش کی مگر ہر بار ناکامی ہوئی ۔
قمبر مالک بلوچ | وقتِ اشاعت :
ایک بلوچی کہاوت ہے کہ ” تانکہ راست پدّر ببیت ، دروگ جاگہہ سوچیت” ۔ “جب تک سچ خود کو آشکار کرے تب تک جھوٹ جگہے کو جلا دیتی ہے”. بلوچ کے سیاق و سباق میں یہ سرگرمیاں اتنے بڑے پیمانے پر جاری رہی ہیں کہ کئی مخلص سیاسی کارکن ان جھوٹ کا شکار ہوئے ہیں۔
سنگت رفیق بلوچ | وقتِ اشاعت :
یار لوگ مضطرب تھے کہ پاکستان میں جمہوری نظام کو چلنے نہیں دیاجاتا‘ہر دس سال بعد بوٹوں کی ٹاپ سنائی دے جاتی ہے اس خیال میں کمال اس وقت آجاتاہے کہ جب مقتدرہ کے باپ انگریز کے پالے پوسے جاگیر داری پلے یہ کہنے لگیں کہ’’ سیاسی قیادت کو جب موقع ہی نہیں دیا گیا تو سیاستدانوں کو موردالزام ٹھہرا کر ملک کی تمام سیاسی اور سماجی نا ہمواریوں ، نا انصافیوں اور خرابیوں کی ذمہ داریاں ان کے سر تھونپ دینا اس طبقے کے ساتھ سراسر نا زیادتی ہے ۔
جلال نُورزئی | وقتِ اشاعت :
کہتے ہیں کہ کبھی شر سے بھی خیر برآمد ہوجاتا ہے ۔ جام کمال خان عالیانی کے صوبے کا وزیراعلیٰ بننے کو اسی تناظر میں دیکھتا ہوں ۔ بڑے سیاسی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں، اگرچہ مقتدرہ کی چادر اُوڑھے ہوئے ہیں لیکن ان کی شہرت اچھے انسان اور سیاستدان کی ہے ۔ ا چھی صفات کے حامل ہیں۔
سنگت رفیق بلوچ | وقتِ اشاعت :
دھاندلی دھاندلی کی شور سے کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی لیکن اگر اس قدر دھاندلی ہوتی تو چائے والا کیونکر کامیاب ہو کر اسمبلی میں پہنچ جاتا؟ برطانیہ جسے جمہوریت کی ماں کہا جاتا ہے وہاں بھی مجال ہے کہ کوئی چائے والا کامیاب ہو کر دارالعوام میں پہنچ جائے۔
شاہد رند | وقتِ اشاعت :
سترہ اگست کا دن کچھ زیادہ مصروف رہا۔ ایک طرف ملک میں وزیر اعظم کا انتخاب ہورہا تھا ،وہیں میں آنے والے نئے ٹی وی چینل کی نئی ٹیم کواپنے ڈائیریکٹر نیوز کی مدد سے انٹرویو کرکے حتمی شکل دے رہا تھا۔ ان انٹرویوز کے دوران ہمیں کچھ وقفے بھی ملے ان وقفوں کے دوران سیاست ،صحافت ،سماج سب کچھ عمران میر صاحب سے ڈسکس ہوتا رہا۔
جلال نُورزئی | وقتِ اشاعت :
افغانستان کے امیر حبیب اللہ کے پُر اسرار قتل کے بعد خاندان میں اقتدار کی مختصر رسہ کشی ہوئی ۔نئے امیر کی تاج پوشی کابل کی عید گاہ میں ہوئی ۔ ہزاروں کا مجمع موجود تھا۔حبیب اللہ خان کے بیٹے امان اللہ خان شور بازار کے شاہ آغا کے ہمراہ آئے ۔
شاہد رند | وقتِ اشاعت :
بلوچستان اسمبلی کی تقریب حلف برداری کا ایجنڈہ جاری کیا گیا تو اس میں واضح کیا گیا تھا کہ13 اگست کو اراکین کے حلف کے ساتھ ہی سہ پہر کے سیشن میں اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب بھی عمل میں لایا جائیگا لیکن میں ایجنڈہ دیکھتے ہوئے یہ سوچ رہا تھا کہ جام کمال کو مشورے دینے والے بجائے انکی مدد کرنے کے، دن بدن انہیں بند گلی کی طرف کیوں لیجارہے ہیں۔ جام صاحب اس سے اتفاق کریں یا نہ کریں یہ میرا ذاتی خیال ہے۔
ڈاکٹر عطاء اللہ بزنجو | وقتِ اشاعت :
آج دنیا کی بدلتی ہوئی صورتحال اور خصوصاً بلوچستان کے اندر گزشتہ برسوں سے جو کچھ ہوتا چلا آرہا ہے اس صورتحال کے تناظر میں دور اندیش رہنماء بابا بزنجو کے سائے سے محروم ہم تقسیم در تقسیم کے مراحل سے دوچار ہیں آنے والے حالات اور ان کے اثرات ابھی سے جس طرح ہم پر پڑھ ریہ ہیں ان کو دیکھ کر بابا بزنجو کی شدید کمی محسوس کرتے ہیں ۔