مری میں شدید برفباری اور سیاحوں کے رش کی وجہ سے صورتحال انتہائی خراب ہوگئی اور 20 سے زائد افراد کی گاڑیوں میں اموات کے بعد سیاحتی مقام کو آفت زدہ قرار دے دیا گیا ہے۔مری کی صورت حال کو مانیٹر کرنے کے لیے قائم کنٹرول روم کے مطابق شہر میں 1 لاکھ سے زائد گاڑیاں داخل ہوئیں اور لوگ گاڑیاں سڑکوں پر کھڑی کرکے چلے گئے۔ مری میںگزشتہ شب سے بجلی کی فراہمی بند ہے، گاڑیاں سڑکوں پر ہونیکی وجہ سے امدادی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے، ہیوی مشینری سے برف کی کٹائی کا عمل جاری ہے۔ مری میں گاڑیوں میں لوگ چھوٹے بچوں کے ساتھ پھنسے ہوئے ہیں اور گاڑیوں میں لوگوں کے پاس کھانے پینے کے لیے سامان بھی نہیں ہے۔
ملک میں مہنگائی کی شرح ریکارڈ کرنے والے اداروں کی ہرہفتہ وار رپورٹ میں یہی بتایاجاتا ہے کہ اشیاء خوردونوش، سبزیوں، گوشت کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے چند ایک اشیاء کی قیمتوں میں ایک سے دو ہفتوں کے لیے ٹھہرائو رہتا ہے مگر اکثر چیزوں کی قیمتیں بڑھنے کے ہی آنکاڑے آتے ہیں جو معاشی سمت کا اشارہ دیتے ہیں کہ ہماری معیشت کس طرف جارہی ہے اور مستقبل میںمزیدکیا اس کے اثرات پڑینگے ۔بہرحال اس پورے دورانیہ میں فی الحال مہنگائی کے آنکاڑوں میںکوئی کمی نہیںآئی ہے دعوے ضرور سامنے آتے ہیں کہ چندماہ کے دوران مہنگائی پر قابو پالیا جائے گا اور عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے گا خاص کر خوردنی اشیاء پر جوعوام کی دسترس سے باہر ہوچکی ہیں۔
بلوچستان کے دارالخلافہ کوئٹہ کے مسائل بہت زیادہ ہیں خاص کر پانی،سیوریج اور صفائی کی ابتر صورتحال کا سامناشہری عرصہ درازسے کرتے آرہے ہیں جنہیں مستقل بنیادوں پر حل نہیں کیا گیا البتہ یہ ضرور ہواہے کہ شہرکے کچھ علاقوں میںچندسڑکوں کو چوڑا کرنے کا کام کیا گیا ہے مگرکوئٹہ پیکج کا اعلان جو دوہزارتیرہ میں کیاگیاتھا اس پر عمل درآمد نہیں ہوسکا جس میں پُل، انڈرپاسزکی تعمیرخاص کر شامل تھی مگر ان کی تعمیرکے لیے اب تک ڈھانچہ بھی تیار نہیں کیاگیا ہے۔
پاکستان میں گزشتہ چند ماہ سے آڈیو اورویڈیو لیکس کی جنگ اپوزیشن اورحکومت کے درمیان جاری ہے ایک ایسا سیاسی خطرناک کھیل کھیلاجارہا ہے جس کے مستقبل میں انتہائی بھیانک نتائج سیاسی حوالے سے برآمد ہونگے۔ جس جنگ کو سیاسی میدان میںلڑنا چاہئے اب خفیہ آڈیو اورویڈیوز کے ذریعے ایک دوسرے کو زیرکرنے کے لیے آلہ کے طور پر استعمال کیاجارہا ہے جو سیاسی اقداراوراخلاق کے مکمل منافی ہے کیونکہ سیاسی جماعتوں کا کام یہ نہیں ہے کہ ایک دوسرے کی مخبری پر لگ جائیں اور ملک کے اہم مسائل کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنے ذاتی وگروہی مفادات کے پیچھے لگ جائیں۔
بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں حالیہ بارشوں نے شدید تباہی مچائی ہے بعض علاقے زیر آب آگئے ہیں جبکہ مکانات کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ گوادر میں شدید بارش کے باعث لوگوں نے ایک جگہ سے دوسرے مقام پر منتقل ہونے کے لیے کشتی کا استعمال کیا ۔ نقصانات کے حوالے سے مکمل تفصیلات فی الحال سامنے نہیں آئی ہیں البتہ حکومتی سطح پر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم دیا گیا ہے جبکہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کی بحالی کے حوالے سے بھی احکامات جاری کردیئے گئے ہیں۔ بلوچستان میں قدرتی آفات بارش یا زلزلہ کی صورت میں ہوں، عوام کو یہ شکوہ ہمیشہ رہتا ہے کہ انہیں بروقت اور مکمل ریلیف فراہم نہیں کیا جاتا جس کی بیسیوئوں مثالیں موجود ہیں ۔
کورونا وائرس کا خطرہ پھر منڈلانے لگا ہے نئی قسم اومی کرون کے زیادہ کیسز سامنے آنے لگے ہیں ملک کے بیشتر شہروں میں اس کی شرح بہت زیادہ ریکارڈ کی جارہی ہے جس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ ویکسی نیشن نہ کرنے والے علاقوںسے اومی کرون کے زیادہ کیسز رپورٹ ہورہے ہیں حالانکہ شہریوں کی سہولت کیلئے ویکسی نیشن سینٹر ہر جگہ قائم کیے گئے ہیں۔
مہذب معاشرے اور ممالک کی ترقی کا کلیدی کردار قانون سازی اور نصاب پر ہی منحصر ہے اگران دواہم جز پر توجہ نہیں دی جاتی تو معاشرے میں زوال کا عنصر حاوی ہوجاتا ہے۔
افغانستان میں استحکام کا مسئلہ ابھی تک برقرار ہے کہ دنیا مستقبل کے افغانستان کو کس طرح دیکھنا چاہتی ہے یہ بہت بڑا سوال ہے جو حل طلب ہے کیونکہ اب تک امریکہ سمیت عالمی طاقتوں نے افغانستان کے حوالے سے کوئی واضح پالیسی نہیں بنائی ہے سیاسی ومعاشی مسئلے پر مکمل طور پر افغانستان کو سائیڈ لائن کردیا گیا ہے
نئے سال کی آمد کے ساتھ ہی مہنگائی کا تحفہ عوام کوپیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں دیا گیا ۔ اس کا خدشہ پہلے سے موجود تھا پیشگی تجزیے میں ہی اس کا ذکر کیا گیا تھا کہ ہماری معاشی پالیسی کی سمت درست بالکل ہی نہیں ہے۔
2021ء بہت سی یادیں ،لمحات،واقعات، سانحات لے کر رخصت ہوگیا۔ بلوچستان کی بات کی جائے تو یقینا صوبے کے مرکزی سیاستدانوں سے لیکر دیگر اہم شخصیات چلی گئیں جو کہ بڑے صدمے سے کم نہیں جن کا کردار بلوچستان کی تاریخ میں ہمیشہ سنہرے باب میں لکھا جائے گا۔ سردار عطاء اللہ خان مینگل، میرحاصل خان بزنجو، لالاعثمان کاکڑجیسے زیرک سیاستدانوں نے ایک طویل جدوجہد بلوچستان کے حقوق کیلئے کی ۔بہرحال کسی کے نظریہ سے اختلاف ہوسکتا ہے مگر اپنے بساط کے مطابق جدوجہد میں سبھی نے حصہ ڈالا۔