آئی ایم ایف کی نئی قسط سے قبل سخت مطالبات سامنے آنے لگے ہیں جس سے عام لوگ بہت زیادہ متاثر ہونگے، اشیا پر ٹیکس، تنخواہ اور غیر تنخواہ دار بھی ٹیکس دینگے یعنی عام لوگوں پر بوجھ مزید بڑھے گا جو پہلے سے مہنگائی کی وجہ سے مشکلات سے دوچار ہیں۔
آئی ایم ایف کی نئی قسط سے قبل سخت مطالبات سامنے آنے لگے ہیں جس سے عام لوگ بہت زیادہ متاثر ہونگے، اشیا پر ٹیکس، تنخواہ اور غیر تنخواہ دار بھی ٹیکس دینگے یعنی عام لوگوں پر بوجھ مزید بڑھے گا جو پہلے سے مہنگائی کی وجہ سے مشکلات سے دوچار ہیں۔
پاکستان پیپلزپارٹی بلوچستان میں اپنا وزیراعلیٰ لے کر آگئی ہے یعنی اب بلوچستان میں پیپلزپارٹی کی حکومت ہوگی جو دیگرجماعتوں سے مل کر بنیگی مگر پاکستان پیپلز پارٹی کے پاس ایک طاقتور حکومت ہوگی اس کی دو وجوہات ہیں ایک تو مرکز میں پیپلزپارٹی کا بڑا حصہ ہے
عام انتخابات کے انعقا د کے بعد حکومت سازی کے لیے سیاسی جوڑ توڑمیں تیزی آگئی ہے
گوادر میں کئی گھنٹوں کی مسلسل بارش سے شہر ڈوب گیا ، نشیبی علاقے زیر ا?ب ا?گئے ،بجلی کا نظام بھی درھم برھم ہوگیا ، ندی نالوں میں طغیانی کے بعد گوادر اولڈ سٹی، سربندر اور پشکان میں بارش کا پانی گھروں میں داخل ہونے کے بعد مکین گھروں سے باہر نکل ا?ئے، متعدد گھروں کی دیواریں منہدم ہوگئیں۔ گودار شہر میں سڑکوں پر بارش کا پانی جمع ہونے سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔
پاکستان موجودہ حالات کے تناظر میں سیاسی و معاشی چیلنجز سے دوچار ہے ایک طرف الیکشن کے بعد کسی بھی جماعت کو سادہ اکثریت نہیں ملی جس کی وجہ سے کوئی بھی ایک جماعت مرکز میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔
پیپلزپارٹی نے بلوچستان میں اتحادیوں کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کا فیصلہ کر لیا۔بلوچستان سے پیپلز پارٹی کے نومنتخب ارکان صوبائی اسمبلی کا اجلاس اسلام آباد میں سرفراز بگٹی کی قیام گاہ پرہوا۔
حالیہ عام انتخابات کے نتائج کے خلاف ملک بھر میں سیاسی و مذہبی جماعتوں کی جانب سے احتجاج جاری ہے، سیاسی قائدین نے الزام لگایا ہے کہ عام انتخابات میں پری پول دھاندلی کی گئی ،ہمارے اوپر غیر منتخب لوگوں کو مسلط کیا گیا ہے، الیکشن نتائج کسی صورت قبول نہیں۔
ملک میں عام انتخابات کے بعد سیاسی بھونچال پیدا ہوا ہے جس کااندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اب کوئی بھی جماعت حکومت لینے کیلئے تیار نہیں ہے کیونکہ کسی کے پاس بھی سادہ اکثریت نہیں کہ وہ حکومت بناسکے،
ملک میں انتخابات اور اس کے نتائج پر سیاسی ومذہبی جماعتوں کے شدید تحفظات نے ایک نئی جنگ چھیڑ دی ہے اور یہ معاملہ اب سڑکوں پر چل تو رہا ہے مگر ایوان ، حکومت سازی اور اس کے بعد بھی بننے والی حکومت کے لیے درد سربنے گا۔
ملک میں عام انتخابات جس طرح سے ہوئے ان پر بہت زیادہ سوالات اٹھ رہے ہیں ۔